تو مجھ کو یہ بتا کہ پریشاں ہے کس لیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تو مجھ کو یہ بتا کہ پریشاں ہے کس لیے
چہرے پہ تیرے رنج نمایاں ہے کس لیے
آفت ہے سر پہ آج تو کل ٹل ہی جائے گی
چھوٹا یہ صبر کا ترا داماں ہے کس لیے
یہ جسم تیرا خاکی ہے، مرنا بھی ہے تجھے
اتنا تو اپنے آپ پہ نازاں ہے کس لیے
یہ پوری عمر تیری تغافل میں کٹ گئی
ناکامیوں پہ اپنی تو نالاں ہے کس لیے
ممکن ہے بجلی فقر کی تجھ پر بھی آ گرے
مسکین و ناتواں پہ تو شاداں ہے کس لیے
منزل کی جستجو ہے اگر تجھ کو اے رفیق!
"رستے کی مشکلوں سے ہراساں ہے کس لیے"
اظہر تو چاہتا ہے اگر قلب کا سکوں
پھر رب کے ذکر سے تو گریزاں ہے کس لیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





