سرد آہوں کو دعاؤں کی رسائی دے دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سرد آہوں کو دعاؤں کی رسائی دے دے
میرے اللہ مجھے غم سے رہائی دے دے
ہم سے اب ان کا تغافل نہیں دیکھا جاتا
موت قسمت میں نہیں ہے تو جدائی دے دے
وہ جو رسوا ہیں زمانے میں ترے دیں کے لیے
مجھ کو ایسی ہی کوئی ایک برائی دے دے
جنگ لڑنی ہے ابھی وقت کے فرعونوں سے
دینے والے مجھے ہارون سا بھائی دے دے
کوئی منظر مری آنکھوں کو عطا کر مولا
میرے ہاتھوں میں کوئی دست حنائی دے دے
ایک مدت سے یہ آنکھیں نہیں سوئیں زخمیؔ
کاش اک رات کوئی نیند پرائی دے دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
B
Badruzuama
5 جولائی، 2020ماشاءاللہ بہت عمدہ نظم ہے حمد باری تعالیٰ کی شکل میں اللہ تعالیٰ شرف قبولیت بخشے کیا خوب ہی زخمی نے اک حمد سنائی ہے۔





