الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین أمابعد
نیکیاں کمانے،
ابھی ماہِ رمضان المبارک کا مبارک مہینہ گزرا ہی ہے جس میں مرد مسلم نے (جسے توفیق ملی) خوب خوب عبادتیں کی،
كانوا يعظمون ثلاث عشرات: العشر الأخير من رمضان،
’’سلف تین عشروں کو بہت عظیم سمجھتے تھے: (۱) رمضان المبارک کا آخری عشرہ (۲)ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور (۳) ماہِ محرم الحرام کا پہلا عشرہ۔‘‘(دیکھیے: لطائف المعارف از ابن رجب ص۸۰)
آئندہ سطور میں اسی عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل و مسائل کا تذکرہ کرنے کی سعی کی جائے گی اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہمیں ان دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کی توفیق ارزانی فرمائے۔
عشرۂ ذی الحجہ افضل ہیں یا ماہِ رمضان کی آخری دس راتیں؟
اس کا جواب شیخ الاسلام بن تیمیہ نے بہت پہلے دے دیا تھا۔فرماتے ہیں:
أيام عشر ذي الحجة أفضل من أيام العشر من رمضان،
(ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں)
حافظ ابن القیم بیان کرتے ہیں:
وَإِذَا تَأَمَّلَ الْفَاضِلُ اللَّبِيبُ هَذَا الْجَوَابَ وَجَدَهُ شَافِيًا كَافِيًا،
(جب فاضل اور سمجھدار شخص اس جواب پر غوروخوض کرے گا تو وہ اسے شافی و کافی پائے گا کیونکہ ذوالحجہ کے دس دنوں کے علاوہ ایام کے اعمال اللہ تعالی کو دس ذوالحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں اور ان ایام میں یومِ عرفہ،
ذی الحجہ کا مہینہ حرمت کا مہینہ ہے
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ شَهرًا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰوٰتِ وَالأَرضَ مِنها أَربَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم (التوبہ:۳۶)
(بے شک اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس میں سے چار حرمت والے ہیں یہی سیدھا دین ہے سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
نیز نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والأرض السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم:ثلاث متواليات ذوالقعدة و ذوالحجة والمحرم و رجب مضرالذى بين جمادى و شعبان" (صحیح بخاری رقم:4662)
(زمانہ گھوم گھما کر (مہینوں کی ترتیب کی) اس ہیئت میں آگیا ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔تین مہینے ذوالقعدہ،
ذی الحجہ کا مہینہ حج کا مہینہ ہے
اور اس ماہ کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ اس ماہ میں حج کے جملہ شعائر ادا کیے جاتے ہیں جس میں دور دراز سے،
مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (بخاری رقم:۱۵۲۱‘مسلم رقم(۱۳۵۰)من حدیث ابی ہریرۃ)
ذی الحجہ کے دس دن (عشرۂ ذی الحجہ) کی فضیلت و اہمیت اور اس کے مقام و مرتبہ کے لیے یہی کافی ہے رب کریم نے ان دس دنوں کی قسم کھائی ہے،
’’وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ‘‘ (الفجر)
(قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی)
اور بات سبھی جانتے ہیں کہ رب تعالی عظیم ہے اور ایسے ویسے امر کی قسم نہیں کھاتا بلکہ عظیم ذات عظیم چیزوں کی ہی قسم کھاتا ہے۔
مفسرین کی اکثریت کے قول کے مطابق ان دس راتوں سے مراد ذو الحجہ کی پہلی دس راتیں (دس دن) مراد ہیں۔امام ابن کثیرؒ نے بھی اپنی تفسیر میں اسی کو صحیح کہا ہے۔(دیکھیے: تفسیر طبری: ۱۱ ۵۳۱/إبن کثیر: ۱۴ ۳۳۸/ لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف لابن رجب: ص 260)
(4)یہی دس دن ہیں جنھیں اللہ تعالی نے (أیام معلومات) قرار دیا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْم بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ (الحج:۲۸)
(اور چند معلوم دنوں میں جو چوپائے جانور اللہ نے ان کو دیے ہیں ان پر اللہ کا نام لیں)
اکثر مفسرین کے نزدیک ایام معلومات سے مراد دی الحجہ کے دس دن ہیں۔(دیکھیے: تفسیر ابن کثیر:؍۴۱۳)
(5) رسول اکرمﷺ کی گواہی:
حضور نبی کریمﷺ نے ان دنوں کو سب سے اعلیٰ و افضل،
((أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا العَشْرُ-يَعْنِي: عَشْرَ ذِي الحِجَّةِ)) قِيلَ: وَلاَ مِثْلُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ قَالَ: ((وَلاَ مِثْلُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللهِ،
(دنیا کے افضل ترین دن ایام العشر (یعنی ذوالحجہ کے دس دن) ہیں۔دریافت کیا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اللہ کے ایام بھی ان کے مثل نہیں؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ میں بھی ان کی مثل نہیں سوائے اس شخص کے جس کا چہرہ مٹی میں لتھڑ جائے (یعنی وہ شہید ہو جائے)۔(صحیح الجامع رقم۱۱۳۳ )
نیز نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وارد ہے،
أفضل أيام الدنيا أيام العشر (صحیح الجامع:۱۱۳۳)
(دنیا کے دنوں میں سب سے افضل دن ایام عشر (عشرۂ ذی الحجہ) ہیں)
(6)انہی دس دنوں کو نبیٔ کریمﷺ نے جہاد سے بھی افضل قرار دیا ہے الا یہ کہ کوئی بندہ اپنی جان مال میں سے کچھ بھی واپس لے کر نہ آیا ہو۔نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ماالعمل فى أيام العشر أفضل منها في هذه قالوا:ولاالجهاد في سبيل الله؟قال:ولاالجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيئ (بخاری:رقم:۹۶۹)
(ذوالحجہ کے دس دنوں سے افضل کوئی عمل نہیں۔صحابہ کرام نے عرض کیا: کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں مگر وہ شخص جو اس حال میں نکلا کہ اس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا)
(۷)انہی دس دنوں میں یومِ عرفہ بھی ہے جس کے بارے میں نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمٍ عَرَفَۃَ (مسلم رقم:۱۳۴۸)
(اللہ تعالیٰ جس قدر عرفہ کے دن لوگوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہے اس سے زیادہ کسی اور دن آزاد نہیں کرتا)
امام قرطبی فرماتے ہیں:
ما رؤي الشيطان يوماً هو فيه أصغر ولا أحقر ولا أدحر ولا أغيظ منه في يوم عرفة, وما ذاك إلا لما رأى من تنزل الرحمة وتجاوز الله عن الذنوب العظام [تفسير القرطبي 2/419]
(شیطان یومِ عرفہ کے علاوہ کسی اور دن میں اپنے آپ کو اتنا چھوٹا،
البتہ بدر کے دن شیطان نے اس سے بھی بڑی شے دیکھی تھی۔عرض کیا گیا یارسول اللہﷺ! یومِ بدر اس نے کیا دیکھا؟ فرمایا: ’’جبرئیل کو جو فرشتوں کی صفیں ترتیب دے رہے تھے‘‘۔(مالک،
(8)انہی دس دنوں میں ایک دن (یوم النحر) بھی کہلاتا ہے جس کے بارے میں نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
اِنَّ اَعْظَمَ الْاَیَّامِ عِنْدَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ یَوْمُ الْقَرِّ (صحیح ابو داؤد رقم:۱۷۶۵‘صحیح الجامع رقم:۱۰۶۴)
(اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سب سے عظمت والا دن یومِ نحر (دس ذی الحجہ) ہے پھر یوم القر (یعنی اس سے اگلا گیارہ ذی الحجہ کا دن) ہے)
ایک وضاحت:
’’القر‘‘ قرار (ٹھہرنے،
(9)انہی دس دنوں میں امہات العبادات (نماز،
حافظ ابن حجر۔رحمہ اللہ۔فرماتے ہیں:
ظاہری طور پر عشرہ ذی الحجہ کے امتیاز کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں یعنی نماز،
ان دس دنوں میں میں انجام دیے جانے والے اہم اعمال و امور
(۱)ذکر و اذکار،
جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ما من أیام العمل الصالح فیهن أحب الی الله من هذہ الأیام العشرة،
(ان دس دنوں کے اعمال صالحہ جتنے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اتنے اور دِنوں کے نہیں یعنی ان دنوں کے اعمال نماز،
صحابہ نے عرض کیا کہ جہاد بھی ان دنوں کے اعمال صالحہ کے برابر نہیں ہوتا؟ فرمایا: جہاد بھی برابر نہیں ہوسکتا۔ہاں وہ مجاہد جو جان مال لے کر جہاد کے لیے نکلے اور پھر کوئی چیز واپس نہ لائے یعنی خود بھی شہید ہوجائے اور مال بھی خرچ ہوجائے۔ایسا جہاد ان دِنوں کے اعمال صالحہ کے برابر ہو سکتا ہے)
اللہ اکبر! اس حدیث مبارک پر غور و تامل کیجیے،
نیز نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
ما من عمل أزكى عند الله عز وجل،
نیز نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ما من أیام أعظم عند الله سبحانه ولا أحب إلیه العمل فیهن من هذه الأیام العشر فأکثروا فیهن من التهلیل والتکبیر والتحمید
(أحمد:5446،
شیخ احمد شاکر نے (مسند احمد:۷؍۲۲۴) کی تخریج کرتے ہوئے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
عشرہ ذی الحجہ سے بڑھ کر اللہ سبحانہ کے نزدیک اور کوئی دن نہیں ہیں اور ان دنوں کے اعمال جیسے اللہ کو پیارے ہیں اور کوئی عمل نہیں۔لہٰذا ان دِنوں میں لا إلہ إلا اللہ،
(۲) نماز:
نماز دین کا ستون،
(۳) صیام:
شریعتِ اسلامیہ میں عمومی طور پر روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔چنانچہ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
من صام يومًا في سبيل الله،
(جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت تک دور کردیتا ہے)
اور خصوصی طور پر عشرۂ ذی الحجہ کے نو دن کی فضیلت اور اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔جیسا کہ آپ ﷺ کی بعض ازواجِ مطہرات سے مروی ہے:
کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة،
(رسول اللہﷺ ذی الحجہ کے نو روزے،
(۴)یوم عرفہ کا روزہ:
یوم عرفہ کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے کیوں کہ اس دن رب کریم اپنے بندوں پر خصوصی نوازشات فرماتا ہے،
مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ،
(یوم عرفہ کو اللہ تعالی سب سے زیادہ جہنم سے گردنیں آزاد فرماتا ہے اور اس دن وہ بندوں سے قریب ہوتا ہے۔پھر فرشتوں کے سامنے فخر و مباہات فرماتے ہوئے عرض کرتا ہے: ان لوگوں کو کیا چاہیے؟
اللہ اکبر! غور فرمائیں کس قدر سخاوت کا دریا رواں ہوتا ہے،
جہاں تک بات رہی روزہ کی تو اس کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالبَاقِيَة (مسلم رقم:۱۱۶۲من حدیث أبی قتادہ)
(آپﷺ سے عاشوراء کے روزے سے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہ معاف مٹادیتا ہے)
علامہ مبارکپوری (صاحبِ تحفۃ الأحوذی) فرماتے ہیں:
امام نووی نے فرمایا کہ علماء کہتے ہیں: اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔اگر صغیرہ گناہ اس کے پاس نہیں ہوں گے تو گناہِ کبیرہ میں تخفیف کردی جائے گی اور اگر گناہِ کبیرہ بھی نہ ہوں تو درجات بلند کیے جائیں گے۔(دیکھیے: تحفۃ الأحوذی:۳؍۴۵۳)
اسی لیے یہودیوں نے ایک دن جناب عمر۔رضی اللہ عنہ۔سے کہا:
امیر المؤمنین! قرآن میں ایک آیت ایسی ہے جسے آپ لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں۔اگر ہم یہودیوں کی جماعت میں ایسی آیت نازل ہوتی تو ہم اسے عید کا دن قرار دے لیتے (یعنی ہم جشن مناتے) عمر نے فرمایا: وہ کون سی آیت ہے؟یہودی نے کہا: الیوم أکملت لکم دینکم و أتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الإسلام دینا (المائدۃ:۳)
حضرت عمر نے فرمایا: ہم اس دن کو بھی جانتے ہیں جس دن یہ آیت اتری (جمعہ کا دن تھا) جہاں اتری اس جگہ کو بھی جانتے ہیں (عرفہ میں آپﷺ کھڑے تھے) (اس کے باوجود ہم اس دن کوئی جشن نہیں مناتے)۔(دیکھیے: بخاری رقم:۴۵)
(۵)حج و عمرہ:
گناہوں کی مغفرت معافی،
العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا،
(ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک (گناہوں کے لیے) کفارہ ہے اور مقبول حج کا ثواب جنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔(یعنی جنت ہی ہے)
(۶)دعاؤں کا اہتمام:
دعا کی بڑی اہمیت ہے۔اس کا اپنا مقام ہے،
(۷)قیام اللیل:
قیام اللیل عظیم عبادت ہے۔بزرگوں کی مبارک عادت رہی ہے،
لا تُطْفِئُوا سرجَكُم لياليَ العشرِ
(عشرۂ ذی الحجہ کی راتوں میں اپنے چراغ گل مت کیا کرو۔(یعنی: راتوں میں جاگا کرو اور عبادت کرو)(دیکھیے: لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف:ص 585)
سبحان اللہ! یہ ہمارے اسلاف تھے جو مواسمِ خیرات تلاش کیا کرتے تھے۔
(۸)تکبیرات کا اہتمام:
اس عشرے میں تکبیرات کا اہتمام ہونا چاہیے اور خوب خوب ہونا چاہیے۔بازاروں میں،
اس عشرہ میں تکبیرات کی عام طور پر دو قسمیں ہیں:
(۱)تکبیراتِ مطلق:
جو ذی الحجہ کے چاند نظر آنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک ممتد رہتا ہے۔یہ تکبیرات صبح و شام،
(۲)تکبراتِ مقید:
یوم عرفہ کی فجر کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اور ایام تشریق کے آخری دن (۱۳ویں تاریخ ) کی عصر کی نماز کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔یہ ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔(دیکھیے: فتاوی ابن باز ۱۳؍۱۷،
تکبیرات کے الفاظ:
تکبیرات کے مختلف الفاظ بسند صحیح ثابت ہیں۔چند ایک کا تذکرہ مفیدِ مطلب ہوگا۔ان شاء اللہ
(۱) اَللهُ أَكْبَرُ،
(دیکھیے: مصنف ابن ابی شیبہ:2/165-168،
(۲)اللَّهُ أَكْبَرُ،
(دیکھیے: مصنف عبد الرزاق رقم:۲۰۵۸۱و سندہ صحیح،
(۳)الله أكبر كبيرا،
(دیکھیے: مصنف ابن ابی شیبہ رقم:۵۷۷۳ و سندہ صحیح،
(۹)قربانی:
اس عشرۂ ذی الحجہ کا ایک انتہائی مہتم بالشان عمل اللہ کے راستے میں قربانی کرنا ہے۔
جس طرح حاجیوں کے لیے صفا و مروہ کے درمیان ایک دوڑ نہیں بلکہ اس عظیم واقعہ کی طرف غماز ہے جس میں شدتِ پیاس سے ایک بچہ تڑپتا ہے،
یہ بیٹے کی قربانی کیا تھی،
محبت چاہتی ہے پھر وہی بیٹے کی قربانی
لہذا ہمیں بھی اپنی ناجائز خواہشات،
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے مگر آپﷺ کا وطیرہ رہا ہے۔آپﷺ نے اپنی زندگی کے کسی بھی موڑ پر ترک نہیں فرمایا،
لہذا اس عشرے میں قربانی کا عمل بھی انتہائی بابرکت،
اللہ کریم سے بہ تضرع و ابتہال دعا ہے کہ وہ ہمیں اس عشرے میں (بلکہ سال کے دیگر تمام ایام میں بھی) نیک اعمال کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے،





