کار خانوں کے لیے اور نہ مکانوں کے لیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کار خانوں کے لیے اور نہ مکانوں کے لیے
ہم تو مزدور ہیں لڑتے ہیں نوالوں کے لیے
ہے غنیمت ابھی آتی ہے اذانوں کی صدا
کل ترس جاؤ نہ تم لوگ اذانوں کے لیے
وقت سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے ابھی
وقت ضائع نہ کرو خام خیالوں کے لیے
شرط منزل ہے یہی حوصلہ قائم رکّھو
آہ و زاری نہ کرو پاؤں کے چھالوں کے لیے
جو پرانی ہیں مرمّت نہیں ممکن ان کی
پرزے ملتے ہیں کہاں ایسی مشینوں کے لیے
راہ تکتی تھیں مکینوں کی زمینیں پہلے
اب زمیں دار ترستے ہیں زمینوں کے لیے
چاند تاروں سے نہیں مانگا اجالا ہم نے
خوں چراغوں میں جلایا ہے اجالوں کے لیے
بیڑیاں کھولنے آئے کوئی ممکن ہی نہیں
چابیاں خود ہی بنا آہنی تالوں کے لیے
جاگی آنکھوں کو شب و روز تسلّی دے کر
نِت نئے خواب دکھاتا ہوں اجالوں کے لیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





