مبتلا دن میں پریشاں رات میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مبتلا دن میں پریشاں رات میں
کٹ رہی ہے بس انھی حالات میں
مصلحت کا ہے تقاضا چپ رہوں
بھول جاتا ہوں مگر جذبات میں
جب سے آئی ہیں ہوائیں شہر کی
بات پہلی سی نہیں دیہات میں
نعرۂ آزادیِ نسواں اٹھا
بھیڑیے ہیں بکریوں کی گھات میں
آئنوں کی کون سنتا ہے یہاں
جھوٹ بھی لازم ہے سچی بات میں
زندگی کے کیا ہیں اسرار و رموز
دیکھیے اللہ کی آیات میں
ہر مکاں کی چھت نہیں ہوتی درست
بھیگتا ہے شہر بھی برسات میں
بس یہی اک بات اچھی ہے تری
تو عیاں رہتا ہے اپنی بات میں
زندگی کی قدر ہو اے شاد! کیا
مل گئی ہے چیز یہ خیرات میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





