سانس ہے لذت حیات نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سانس ہے لذت حیات نہیں
زندگی تجھ میں کوئی بات نہیں
تیرگی سے جو مجھ کو ڈھانپ سکے
دہر میں ایسی کوئی رات نہیں
عکس در عکس روشنی ہے مری
میری ہمسر یہ کائنات نہیں
میں سراسر یقیں کا پروردہ
مجھ میں رنگِ توہمات نہیں
میں خفا، اس کے لب بھی ہیں خاموش
درمیاں جب کہ کوئی بات نہیں
تا قیامت رہیں گے تابندہ
خواب میرے یہ بے ثبات نہیں
نور بخشے گا تجھ کو شمسؔ کمال
رنگ فطرت، حصار ذات نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
S
Shahzad Ahmad parra
28 ستمبر، 2020بہت ہی عمدہ۔ معنی کی گہرائی کے ساتھ ساتھ الفاظ کا بہترین استعمال۔
استاد محترم اللہ آپ کو اپنی حفاظت عطا کریں۔





