عام حالات میں کسی بھی شخص کے متعلق اچھے اور برے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ عام حالات میں ہر آدمی چاہے اس کی شکل و صورت،
اگر کوئی شخص چائے لیے ہوئے ہے ٹھوکر لگ جائے اور کپ سے چائے گر جائے تو کہا جاتا ہے کہ ٹھوکر لگنے سے چائے گرگئی۔حالانکہ ایسا نہیں ہے،
واذا مروا باللغو مروا كراما (فرقان 72)
اور جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
کیونکہ گالیاں تو ان کو بھی دی جاتی ہیں نقد و تبصرہ تو ان پر بھی ہوتا ہے ان کے انا کو بھی ٹھیس لگتی ہے مگر ان کے ظرف میں شرافت ہے اس لیے اس دلخراش موقع پر بھی ان کے ظرف سے شرافت اور کرامت ہی چھلکتی ہے۔شرافت کا یہ معیار زمانہ قدیم میں بھی تھا اسی لیے اس کی تعبیر شاعر نے اس طرح کی ہے:
ولقد امر علي اللئيم يسبني
فمضيت ثمة قلت لا يعنيني
یعنی میں خسیس لوگوں کے پاس سے گزرتا ہوں اور وہ لوگ مجھے گالیاں دیتے ہیں تو میں وہاں سے یہ کہہ کر گزر جاتا ہوں وہ مجھے گالیاں نہیں دے رہے ہیں۔
مومنوں کی صفت کے برخلاف اگر آپ کسی عام آدمی کو گالی دے دیں تو پلٹ کر صرف زبان ہی نہیں استعمال کرے گا بلکہ ہاتھ اور لات سے بھی آپ کی ضرور خدمت کرے گا کیونکہ اس کے ظرف میں وہی تھا جو ایک گالی کے بعد چھلک کر باہر آگیا اور آپ کے چہرے کا زاویہ بدل کر اپنی شرافت کا ڈنکا بجاتا ہوا چلا گیا مگر وہ بتا گیا کہ اس کے ظرف میں کیا ہے جو تھا وہ چھلک کر باہر آیا گیا ہے۔





