جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

زندگی نام کر نہ جاؤں کہیں

کلام: فیضان اسعد20 جولائی، 20201,236قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی نام کر نہ جاؤں کہیں
اس تبسم پہ مر نہ جاؤں کہیں
بے رخی سے تری یہ خدشہ ہے
عشق سے ہی مکر نہ جاؤں کہیں
شہر نے اتنی وحشتیں بھر دیں
دیکھ کر گاؤں ڈر نہ جاؤں کہیں
دیکھ کر واعظوں کو میں اک دن
خوف یہ ہے سُدھر نہ جاؤں کہیں
ہر گھڑی واپسی کی راہ تکوں
جانے کیا ہو جو گھر نہ جاؤں کہیں
دل شکن ہی ملا جسے چاہا
ایک دن میں بکھر نہ جاؤں کہیں
تُو سے کہنے لگا ہوں آپ تجھے
میں نظر سے اتر نہ جاؤں کہیں
یاد جاناں کی قید میں اسعؔد
زندگی سے گزر نہ جاؤں کہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

زندگی نام کر نہ جاؤں کہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر