الحمد لله رب العالمين و الصلاة و السلام على أشرف الأنبياء و المرسلين و من تبعهم بإحسانٍ إلى يوم الدين
قربانی کا معنی:
اونٹ،
قربانی کی حکمت:
قربانی ایک عظیم عمل ہے جو بہت ساری حکمتوں کے پیش نظر انجام دیا جاتا ہے۔مثلا:
(۱) قربانی اللہ کے تقرب کے حصول اور ثواب الہی کے لیے دی جاتی ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [الكوثر:۲]
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔نیز اللہ تعالی نے فرمایا: قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [الأنعام:۱۶۲]
ترجمہ:آپ کہہ دیجیے کہ میری نماز،
(۲) امام الموحدین حضرت ابراہیم اور امام الأنبیاء جناب محمد ﷺکی سنت کے طور پر بھی دی جاتی ہے۔ (و فدیناہ بذبحِ عظیم) [الصافات:۱۰۷]
(۳) اپنے اہل و عیال پر بقر عید کے دن توسیع کے لیے بھی قربانی پیش کی جاتی ہے۔
(۴) غرباء،
(۵) شکرانے کے طور پر بھی قربانی دی جاتی ہے۔اللہ نے فرمایا: فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ [سورہ الحج: ۳۶]
ترجمہ: اس سے کھاؤاور ضرورت مندوں اور محتاجوں کو کھلاؤ،
قربانی کے دن کی فضیلت:
بہت سارے واعظین،
ترجمہ: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا دن قربانی کا دن ہے پھر منی میں ٹھہرنے کا پہلا دن ہے)اور قربانی کا دن اس لیے بھی انتہائی اہم اور مہتم بالشان ہے کہ اس دن عید کی نماز کے ساتھ ساتھ اللہ کی بارگاہ میں اپنی گاڑھی کمائی سے خرید کر رضائے الہی کی خاطر ایک بندۂ مومن مہنگا سے مہنگا جانور قربان کرتا ہے اور اس لیے بھی قربانی کے ایام اللہ کے یہاں فضیلت مآب ہیں کہ ان دنوں میں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ اللہ کریم کا خوب خوب ذکر کیا جاتا ہے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: أيام التشريق أيام أكل وشرب،
اور اس لیے بھی یہ ایام انتہائی عظیم ہیں کہ ان ایام میں بکثرت ذکر بجالانے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا: واذكروا الله في أيام معدودات [البقرة:۲۰۳]
(چند دنوں میں اللہ کا ذکر کیا کرو) میں مذکورہ ایام معدودات بھی ىہى ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہےجیسا کہ کئی مفسرین نے نقل فرمایا ہے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے:
قربانی کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے،
شیخ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’مفسرین کے درمیان اس بابت اختلاف ہے کہ ذبیح کون ہے؟اسماعیل علیہ السلام یا اسحاق علیہ السلام؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح قرار دیا ہےاور یہی بات صحیح ہے۔امام شوکانی نے اس میں توقف اختیار کیا ہے،
قربانی کا حکم:
قربانی کے حکم کے تعلق سے علمائے اسلام میں اختلاف رہا ہے کہ قربانی واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ ائمہ ثلاثہ اور جمہور اہل علم کے یہاں قربانی سنتِ مؤکدہ ہے۔حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہما) فرمایا کرتے تھے: ھی سنۃ و معروف۔
ترجمہ: یہ سنت ہےاور اسلام میں ایک معروف چیز ہے۔(بخاری:۵۵۴۵) امام ترمذی فرماتے ہیں: اہل علم كے نزديک اسى پر عمل ہے كہ قربانى واجب نہيں ہے بلكہ رسول اللہ ﷺ كى سنتوں ميں سے ايك سنت ہے اور اسى پر عمل كرنا مستحب ہے اور امام سفيان ثورى اور امام ابن مبارک بھی اسى كے قائل ہيں۔[ترمذى: بعد الحديث رقم:۱۵۰۶] حضرات ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) کبھی کبھار قربانی اس خوف سے چھوڑ دیا کرتے تھے کہ اسے واجب نہ قرار دیا جائے۔[طبرانی رقم: ۳۰۵۸،
ترجمہ: نذر پوری کرتے ہیں۔نیز نبی کریمﷺ نے فرمایا: مَن نَذَرَ أن يُطيعَ اللهَ فلْيُطِعْه،
ترجمہ:جس نے اللہ کی اطاعت کے لیے نذر مانی تو اسے اپنی نذر پوری کرنی چاہیےاور جس نے معصیت کی نذر مانی تو وہ اللہ کی معصیت نہ کرے۔[فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ۹؍۴۱۳]
سب سے افضل اور بہتر قربانی:
وہ جانور ہےجسے نبیٔ کریمﷺ نے ذبح فرمایا: نبی کریم ﷺ نے سینگ دار چتکبرا دو مینڈھے قربانی کے لیے ذبح کیے۔آپﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت ’بسم اللہ اللہ اکبر‘
کہا اور اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا۔[بخاری: رقم ۵۵۶۵/ مسلم رقم: ۱۹۶۶] اس سے معلوم ہوا کہ سب سے افضل قربانی سینگ دار چتکبرے مینڈھے کی قربانی ہے،
قربانی کے جانور کو موٹا کرنا:
قربانی کے جانور کو موٹا کرنا،
ترجمہ: ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب موٹا کرتے تھے اور مسلمان (یعنی تمام صحابہ) موٹا فربہ کرتے تھے۔
قربانی کا جانور جتنا مہنگا ہواس قدر افضل اور اعلی ہوگا جیسا کہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا: أغلاها ثمناً وأنفسها عند أهلها۔
ترجمہ:سب سے بہتر وہ جو قیمت کے اعتبار سے مہنگا اور اس گھر والوں کے یہاں نفیس ہو۔[بخاری رقم: ۲۵۱۸] امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں: انسان کے نزدیک قربانی کا جانور دیکھنے میں جتنا اچھا لگے گا،
سعودى مجلس افتا كا فتوى:
قربانی کے بہتر اور افضل ہونے کے تعلق سے مملکتِ سعودی عرب کی مجلس افتا کا فتوی ملاحظہ فرمائیں: قربانيوں ميں افضل اونٹ،
"جو پہلى گھڑی ميں (مسجد ميں) گيا گويا كہ اس نے اونٹ كى قربانى كى،
اس حديث ميں محل شاہد اللہ تعالىٰ كى طرف تقرب ميں اونٹ،
قربانی کی شرائط:
کسی بھی عمل کے لیے شرائط ہوتی ہیں۔جب تک انھیں بجانہ لایا جائےاللہ وہ عمل قبول نہیں کرتا۔قربانی کے شرائط میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
نیت:
نیت کا خالص ہونا،
ترجمہ:آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔
تقوی و للہیت سے سرشار ہوکر قربانی کی جائے:
اللہ نے تعالی ہر عمل میں تقوی کے مقصد کو سب سے مقدم رکھا ہےاور وہی عمل قبول کرتا ہے جو تقوی سے سرشار ہوکر انجام دیا جاتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا: إنما یتقبل اللہ من المتقین [المائدۃ:۲۷]
حلال مال سے قربانی کیا جائے:
قربانی کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اسے حلال مال سے خریدا گیا ہو۔حرام مال سے خریدا گیا مال ذبح کرنے سے قربانی قبول نہیں ہوتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ [البقرة:172]
ترجمہ:اے مومنو!ہم نے جو تم کو پاکیزہ مال دیا وہی کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو،
ترجمہ:اے لوگو! بے شك اللہ تعالىٰ پاك ہے اور صرف پاكيزہ چيز كو ہى قبول كرتا ہے۔
قربانی سنت کے مطابق ہو:
چنانچہ اگر کسی نے قربانی وقت سے پہلے کرلی تو اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی،
ترجمہ: حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ میرے ماموں ابو بردہ نے نمازِ عید سے پہلے ہی قربانی کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمھاری یہ بکری گوشت والی بکری ہے۔(یعنی یہ قربانی گوشت کھانے کے لیے کیا تھا) اس بات پر ابن منذر نے [الإجماع:۱؍۶۰] میں،
قربانی انہی جانور کی جائز ہوگی جو بھیمۃ الأنعام میں سے ہو۔بھیمۃ الأنعام میں اونٹ،
قربانی کے جانور کے لیے عمر کا اعتبار:
شریعتِ مطہرہ نے قربانی کے جانور کے لیے عمر کا اعتبار کیا ہے۔اس کے بغیر جو قربانی کرے گاقبول نہیں ہوگی۔چنانچہ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا: لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن [مسلم رقم:۱۱۷]
ترجمہ: مُسِنّہ ہى ذبح كرو،
مسنۃ کی تعریف:
امام نووی مُسنہ کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’قال العلماء: المسنة هي الثنية من كل شيء من الإبل والبقر والغنم فما فوقها،
ترجمہ: مُسنَّہ اونٹ،
امام شوکانی فرماتے ہیں:
’’علماء کہتے ہیں: مُسنہ اونٹ،
بھینس کی قربانی:
بھینس کی قربانی کے بارے میں علمائے اسلام کے مابین شدید اختلاف رہا ہے۔خود علمائے اہل حدیث میں اختلاف پایا جاتاہے۔چنانچہ بعض اسے صحیح قرار دیتے ہیں،
بے نمازی کی قربانی:
آج کے اس دور میں جس بے رحمی(!!) سے انتہائی شاطرانہ (!!!) طور پر نماز ترک کی جارہی ہے،
قربانی کا وقت:
قربانی کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ وقت پر ذبح کیا جائے،
قربانی کس دن افضل؟
یقینا قربانی کا دن سب سے افضل دن وہ ہے جسے یوم النحر کہا جاتا ہے (یعنی قربانی کا دن) جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: إن أعظم الأيام عند الله تعالى يوم النحر ثم يوم القر [ابو داود:۱۷۶۵،
ترجمہ: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا دن قربانی کا دن ہے پھر منی میں ٹھہرنے کا پہلا دن ہے۔اور اس لیے بھی کہ اسی دن نبیٔ کریمﷺ نے اپنی قربانی اللہ کی راہ میں پیش فرمائی اور اس لیے بھی کہ یہی (یوم النحر) ایام قربانی میں سب سے پہلا دن ہوا کرتا ہے۔
ذبح کرتے وقت کیا کہنا چاہیے؟
ذبح کے وقت کی دعا یہ ہے:
إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفاً وما أنا من المشركين،
پھر جب ذبح کرنے لگتے تو کہتے: باسم الله والله أكبر،
بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہےاور لکھا ہےکہ بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر قربانی کرنی چاہیے۔لیکن محققین علماء نے اسے صحیح کہا ہے،
افضل یہ ہے کہ انسان خود ذبح کرے:
اگر کسی کو وکیل بنادے تو بھی جائز ہے۔نبیٔ کریمﷺ نے خود اونٹ (نحر) ذبح کیے،
قربانی کا جانور بیچا نہیں جا سکتا ہے:
اگر کسی نے کوئی جانور قربانی کے لیے خریداتو اس کا بیچنا قطعی جائز نہیں ہوگا۔[مسلم رقم:۴۲۲۴] ہاں اگر کوئی اس جانور سے بہتر،
قربانی کے جانور کے لیے بے عیب ہونا ضروری ہے:
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
أربع لا تجوز في الأضاحي: العوراء البيّن عورها،
ترجمہ:چار جانور قربانى ميں جائز نہيں: واضح طور پر آنكھ كا كانا،
’’عیوب کی تین قسمیں کی جا سکتی ہیں:
پہلی قسم: جس کی دلیل سنت میں واضح طور پر موجود ہےیعنی ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو،
دوسری قسم:جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہونے کی ممانعت وارد ہوئی ہے،
تیسری قسم:وہ عیوب جن کے متعلق ممانعت تو وارد نہیں ہے البتہ وہ (عیوب) سلامتی میں قادح ضرور ہیں۔تو ان عیوب سے قربانی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گااور نہ ہی ان کی قربانی مکروہ ہوگی اور نہ ہی حرام گوکہ لوگوں کے یہاں انھیں معیوب سمجھا جاتا ہو۔جیسے ایسا کانا جس کا کاناپن واضح نہ ہونیز ایسا جانور جو معمولی لنگڑاتا ہویاجس کا دانت ہلکا سا ٹوٹا ہواہو۔چنانچہ یہ عیب تو ہیں مگر ایسے عیوب نہیں کہ جو قربانی کے جائز ہونے میں رکاوٹ ہوں اور نہ ہی یہ عیوب کراہیت کو ثابت کرتے ہیں۔کیوں کہ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہےاور اصل چیز براءت ہے۔‘‘[شیخ ابن عثیمین کی الشرح الممتع ۷؍۴۴۰] لہذا معمولی عیب دار جانور کی قربانی باتفاق درست ہے۔[سبل السلام ۴؍۱۳۵۶،
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ والْأُذُنَ،
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ کان اچھی طرح سے دیکھ لیں۔اور ہم ایسے جانور کی قربانی ہرگز نہ کریں جس کے کان آگے سے کٹ کر لٹکے ہوں،
حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے:
اس میں کوئی حرج نہیں ہے،
اس صحيح حديث سے معلوم ہوا كہ حاملہ جانور خواہ اونٹنى ہو،
علاوہ ازیں جو حضرا ت اس کی کراہت کی بات کرتے ہیں،
ذبح کرنے کے آداب:
شریعت مطہرہ میں آداب و اخلاق کا عظیم مقام ہےاور اسلام رحمت و عطوفت و شفقت بھرا احسان آموز دین ہے،
(۱) جانور کو ذبح کرنے سے پہلے چھری کو خوب تیز کر لیا جائے۔[مسلم رقم:۱۹۵۵]
(۲) جانور کے سامنے چھری تیز نہ کیا جائے۔[صحیح الترغیب رقم۱۰۹۰]
(۳) جانور کو قبلہ رخ کرلینا بھی محبوب عمل ہے اور آداب میں شامل ہے۔[ابو داؤد رقم ۲۷۹۵ٰ سندہ صحیح]
(۴) اونٹ کے علاوہ دوسرے جانور کو لٹاکر ذبح کرنا۔[مسلم رقم ۱۹۶۷]
(۵) ذبح کرتے وقت ذبیحہ کے پہلو پر قدم رکھنا۔[بخاری رقم ۵۰۵۸/ مسلم رقم:۱۹۶۶]
(۶) جانور ذبح کرنے سے پہلے دعا پڑھنا۔[ابوداؤد رقم: ۲۷۹۵]
(۷) اونٹ کو کھڑے کھڑے نحر کرنا۔اللہ تعالی کے فرمان فاذکروا اسم اللہ علیہا صوافّ [الحج:۳۶] کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صوافّ کی تفسیر (قیاما) ہے،
(۸) قربانی کے وقت اگر بسم اللہ کہنا بھول جائے تو کوئی حرج نہیں،
ذبح کرتے وقت اگر جانور کی گردن علیحدہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔[بخاری قبل رقم:۵۵۱۰]
عيدالاضحى اور اس كے بعد تين دن یعنى تيرہ 13/ذو الحجہ كى شام (مغرب تک) تک قربانى كى جاسكتى ہے كيونكہ عيد الاضحى كے بعد 11،
اور تمام ايام تشريق كو ذبح كا دن قرار ديا گيا ہے اس كى دليل مندجہ ذيل حديث ہے: (عن جبير بن مطعم عن النبي صلی اللہ علیہ و سلم:كل أيام التشريق ذبح)
ترجمہ: تمام ايام تشريق ذبح كے دن ہيں۔[احمد رقم:۱۶۷۹۷/ طبراني رقم:۱۵۸۳/ بیہقی رقم:۱۰۵۲۵/ صحيح ابن حبان:۳۸۴۲/ صحيح الجامع الصغير:۴۵۳۷]
ایام تشریق کی راتوں میں بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔[المغنی ابن قدامہ:۹؍۴۵۴/ نووی کی کشف القناع:۳؍۱۰]
اگر کسی کے پاس وقتی طور پر پیسے نہ ہوں اورقرض لے کر قربانی دینے کی نوبت آجائے جسے بعد میں ادا کرنے کی امید ہو تو قرض لے کر قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ایسا کرنا ضروری نہیں مگر بہتر ضرور ہے۔[مجموع فتاوی ابن تیمیہ ۲۶؍۳۰۵]
اونٹ میں دس اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں:
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ،
نیز نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
كنَّا معَ رسولِ اللهِ صلَّى الله عليْهِ وسلَّمَ في سفرٍ،
ترجمہ: ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر میں تھے،
پورے گھر والے کی طرف سے ایک بکری کافی ہے:
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِالْشَّاةِ عَنْهُ،
ترجمہ: نبیٔ اکرمﷺ کے زمانے میں ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے پورے گھر والے کی طرف سے ایک بکری کی قربانی دیا کرتاتھا،
عورتیں بھی قربانی کرسکتی ہیں:
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اپنی بیٹیوں کو قربانی کرنے کا حکم دیتے تھےاور وہ اپنے ہاتھوں سے قربانی کیا کرتی تھیں۔[بخاری قبل رقم:۵۵۵۹/ مصنف ابن ابی شیبہ رقم: ۸۱۶۹/ فتح الباری ۱۰؍۲۵] جو لوگ عورتوں کے ذبح کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں اور اسوۂ صحابہ سے دور۔
جو قربانی کا ارادہ رکھے وہ اپنے بال،
جیسا کہ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره[مسلم:۳۶۵۵]
ترجمہ:جب تم ذو الحجہ كا چاند ديكھ لو اور تم ميں سے كوئى قربانى كا ارادہ ركهتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن كاٹنے سے رك جائے۔اگر کسی نے اپنے بال ناخن کاٹ لیے(چاہے عمدا کاٹے یا سہوا) تو اسے توبہ و استغفار کرنا چاہیے،
قربانی کے گوشت کی تقسیم کا مسئلہ:
بعض علما نے كہا ہے كہ قربانى كا گوشت تقسيم كرنے كا افضل طريقہ يہ ہے كہ گوشت كے تين حصے كيے جائيں۔ايك حصہ خود کھايا جائے،
’’قرباني كا تيسرا حصہ تمھارے ليے ہے اور تيسرا حصہ تمھارے گهر والوں كے ليے ہے اور تيسرا حصہ مساكين كے ليے ہے‘‘ [مزيد تفصيل كے لیے دیکھیے: المغنى لابن قدامہ:۹؍۳۷۹]
اگر چہ علما نے اس تقسيم كو افضل كہا ہے ليكن يہ تقسيم ضرورى نہيں ہے بلكہ حسب ِضرورت،
وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ [الحج: ۳۶]
"قربانی کے اونٹ ہم نے تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمھیں نفع ہے۔پس انھیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو،
ايک اور آيت ميں ہے كہ’’اپنے فائدے حاصل كرنے كے ليے آجائيں اور ان چوپايوں پر جو پالتو ہيں،
درج بالا آيات سے معلوم ہوا كہ حسب ِضرورت قربانى كا گوشت کھایا اور کھلایا جاسكتا ہے،
ليكن پھر اس كى اجازت دے دى تھی جيسا كہ ايك دوسرى حديث ميں ہے كہ حضرت سلمہ بن اكوع رضی اللہ عنہ سے روايت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:"تم ميں سے جو قربانى كرے تيسرے دن كے بعد اس كےگھر میں اس ميں سے كوئى چيز باقى نہ ہو۔پس اگلے سال صحابہ كرام نے عرض كيا: اے اللہ كے رسول ﷺ! كيا اس سال بھی ہم اسى طرح كريں جس طرح ہم نے گذشتہ سال كيا؟ آپ ﷺ نے فرمايا:کھاؤ اور کھلاؤ اور ذخيرہ كرو۔بے شك اُس سال لوگ مشقت ميں تھے تو ميں نے ارادہ كيا كہ تم ان كى مدد كر دو۔[بخارى رقم:۵۵۶۹]
مذكورہ دلائل سے يہ بات ثابت ہو جاتى ہے كہ قربانى كے گوشت كے تين يا دو حصے کرکے تقسيم كرنا ضرورى نہيں بلكہ حالات كے مطابق كسى بھی طريقے سے گوشت کھایا اور کھلایا جاسكتا ہے اور ذخيرہ اندوزی بھی کی جا سکتی ہے۔
امام ابن قدامہ رحمه الله فرماتے ہیں:
’’تين دنوں سے زيادہ قربانيوں كا گوشت ذخيرہ كرنا جائز ہے۔‘‘[المغنى:۹؍۳۸۱]
قربانی کا گوشت کفار کو دیا جا سکتا ہے:
قربانی کے اہم مسائل میں ایک مسئلہ قربانی کے گوشت کو کافروں کو دینے سے متعلق ہے کہ کیا قربانی کا گوشت کافروں کو جو مانگنے آتے ہیں دیا جاسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قربانی کا گوشت انھیں بلاشبہ دیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [الممتحنۃ:۸]
ترجمہ:اللہ تعالی تمھیں ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے جنگ نہیں لڑتے اور تمھیں تمھارے گھروں سے بے دخل نہیں کرتے،
یہ بھی جائز ہے کہ اس [قربانی کے گوشت] سے کافر کو بھی کھلایا جائے۔کیونکہ یہ نفلی صدقہ ہے،
قربانی کا گوشت خود کھانا ضروری نہیں ہے:
بعض لوگ جو ایسا سمجھتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔قربانی کرنے والا اگر نہ چاہے تو کھانا ضروری نہیں ہے۔
قربانی کے گوشت سے روزہ افطار کرنے کا عقیدہ درست نہیں ہے:
البتہ یہ آپﷺ کا معمول تھا کہ عید الأضحی کے لیے بغیر کھائے پیے نماز عید کے لیے نکلتے تھے اور گوشت سے کھانے کی ابتدا فرماتے تھے۔کلیجے سے کھانے کی ابتدا بھی کوئی ضروری نہیں۔[مجموع فتاوی و رسائل شیخ محمد بن عثیمین ۱۶؍۱۲۰]
نبیٔ کریمﷺکی طرف سے قربانی کرنا بدعت ہے:
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم سے زیادہ کسی کو بھی آپ سے محبت نہیں ہوسکتی ہے۔اس کے باوجود ان میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا ہے،
میت کی طرف سے قربانی:
مستقل طور پرمیت کی طرف سے قربانی نہ رسول اللہﷺسے ثابت ہے،
اگر قربانی کا جانور گم ہوجائے،
کہ دوسرا جانور خریدے یا نہ خریدے۔[السنن الکبری ۹؍۲۸۹/و سندہ صحیح] ہاں اگر لاپرواہی سے ایسا ہوا ہے تو اسے دوبارہ خریدنا ہوگا۔
قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اگر عیب دار ہوجائے:
تو اسی کی قربانی کی جائے،
قربانی کے چرم کو اپنے مصرف میں لایا جا سکتا ہے:
اسے دوسرے کو ہدیہ کیا جا سکتا ہےمگر اسے بیچا نہیں جا سکتا۔[فیض القدیر:۶؍۱۲۱‘المغنی ۹؍۱۹۵]
قربانی کا چمڑا قصاب کو بطورِ اجرت دینا بھی ناجائز ہے: [مسلم رقم ۱۳۱۷]قصاب کو بطورِ اجرت معین مبلغ دےمگر قربانی کرنے والے کے لیے جائز نہیں ہے کہ چرم کو بطورِ اجرت دے۔
چرم ہائے قربانی کو مدرسین کی تنخواہوں،
قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کرنا:
قربانی ایک مستقل امتیازی عبادت ہےاور صدقہ و خیرات دوسری مستقل عبادت،
(۱) اس بے بنیاد فتوی سے یہ لازم آئے گا کہ قربانی نہ کرکے صلہ رحمی کو بجالایا جائے،
(۲) اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اسلام نے (نعوذ باللہ) غریبوں کے مسائل کا حل پیش نہیں کیا،
(۳) جو قربانی کے بدلے صدقہ کا فتوی صادر فرماتے ہیں،
(۴) اس لیے بھی قربانی کے بدلے صدقہ کرنا درست نہیں کہ اس سے نبی کریمﷺ کی سنت چھوٹ جاتی ہے،
اس لیے یہ کہنا کہ قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات اور غریبوں میں انفاق سے کام لیا جائے بے بنیاد،
قربانی سے متعلق بعض اغلاط و بدعات:
(۱) قربانی کرنے سے پہلے جانور کو دھونا۔
(۲) قربانی کرنے سے پہلے پورے گھر والوں کا جانور کے پاس جمع ہونا۔
(۳) قربانی اور عقیقہ ایک ساتھ کرنا:بعض لوگ عقیقہ کے جانور ہی میں قربانی کافی سمجھتے ہیں،
(۴) قربانی کے جانور کے پاس جاکر رونا۔
(۵) جانور ذبح کرتے ہوئے سب کا اجتماعی طور پر دعا پڑھنا۔
(۶) قربانی کے جانور پر پھولوں وغیرہ کی بارش کرنا۔
(۷) بعض لوگوں کا یہ اعتقاد رکھنا کہ قربانی صرف پہلے دن (۱۰ ذی الحجہ)کو ہی جائز ہے۔
(۸) بعض قربانی کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محرم کی طرح ہیں،
(۹) بعض لوگ جانور ذبح کرتے ہوئے وضو کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔پتہ نہیں یہ امر کہاں سے اٹھالائے ہیں،
(۱۰) قربانی کے بعد داڑھی وغیرہ منڈوانا۔داڑھی منڈوانا تو ویسے بھی گناہ کا کام ہےلیکن اس اعتقاد کے ساتھ کہ مونچھ داڑھی آج منڈوانے کا دن ہے،
رب کریم ہمیں سنت کے مطابق ہر عمل کرنے کی توفیق ارزانی کرے۔





