اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مختلف حالات اور کیفیات میں پیدا کیا ہے۔چنانچہ ان میں کوئی مالدار ہے کوئی غریب،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وما أنفقتم من شيء فهو يخلفه وهو خير الرازقين(سبأ:۳۹)اور تم جس قدر چیز خرچ کروگے تو وہی اس کا عوض دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دو فرشتے پکار کر کہتے ہیں لوگو! اپنے رب کی طرف چل پڑو اور خوب سمجھ لو کہ جو چیز تھوڑی ہو مگر کافی ہو وہ چیز زیادہ مگر ناکافی چیز سے بہتر ہے۔اے اللہ خرچ کرنے والے کو عوض عطا فرما اور بخل کرنے والے کو ہلاک کر۔
یہ بھی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ياإبن آدم أنفق أنفق عليك (البخاري 4684/مسلم 993)اے آدم کے بیٹے! تم خرچ کرتے رہو میں تم پر خرچ کرتا رہوں گا۔
صدقہ وخیرات جہاں مالوں،
وداؤوا مرضاكم بالصدقة (صحيح الجامع 3358) صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو۔
یہ بھی یاد رہے کہ افضل صدقہ بیماری سے پہلے دینا ہے کیونکہ موت کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور موت کے بعد آدمی کا مال اس کے وارثین کا ہوجاتا ہے جیسا کہ ایک صحابی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل اور بڑا صدقہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا:
أن تصدق وأنت صحيح شحيح،
اس سلسلے میں ایک سچا واقعہ بیان کرنا افادہ سے خالی نہ ہوگا۔دمشق کے ایک ہسپتال میں ایک طبیب عیسٰی مرزوقی تھے اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور ان کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔چیک اپ کے دوران معلوم ہوا کہ انھیں کینسر کا موذی مرض لاحق ہے ان کے ساتھی ڈاکٹروں نے علاج ومعالجہ شروع کردیا۔ان کی طبی رپورٹس سامنے تھیں مرض مسسل بڑھ رہا تھا بورڈ کی رائے کے مطابق وہ محض چند ہفتوں کے مہمان تھے۔ادھر ڈاکٹر عیسٰی نے نبی کریمﷺ کی حدیث پڑھ رکھی تھی: "داؤوا مرضاكم بالصدقة"۔اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو۔ایک دن وہ مایوسی کے عالم میں بیٹھا تھا کہ اسے اچانک مذکورہ حدیث یاد آگئی۔وہ اس کے الفاظ پر غور کرتا رہا،
ڈاکٹر عیسٰی کو ایک ایسے گھرانے کا علم تھا جس کا سربراہ وفات پا چکا تھا اور وہ لوگ نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔اپنے ایک قریبی دوست کی وساطت سے اس گھرانے کو ایک مخصوص رقم إرسال کردی،
ایک دن وہ ڈاکٹروں کے سامنے دوبارہ پیش ہوا۔اس کی رپورٹ دیکھ کر سارے ڈاکٹر حیران رہ گئے جو اس کی مکمل صحتیابی کا اعلان کررہی تھیں۔اس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کی ہدایت کے مطابق علاج کیا ہے۔جس کی وجہ سے اللہ نے مجھے مکمل شفا عطا کی۔
(اس واقعہ کو عبد المالک مجاہد حفظہ اللہ نے اپنی کتاب سنہرے اوراق کے صفحہ نمبر 45 میں عربی ہفت روزہ المسلمون شمارہ 181کے حوالے سے ذکر کیا ہے)
اس واقعہ سے ہمیں سبق لینا چاہیے اور اللہ پر ایمان وتوکل رکھ کر نبی اکرمﷺ کے بتائے ہوئے فرامین کے مطابق صدقہ وخیرات کرکے اللہ سے قریب ہوکر اپنے مرض کا علاج کرنا چاہیے،
اللہ سے دعا ہے ہم سب کو اپنے حفظ وأمان میں رکھے،





