حسنین کریمین (رضی اللہ عنہما) سے اپنی نسبت جوڑنے والاوہ ندوی ایک بار پھر صحابۂ رسولﷺ کے خلاف زہر افشانی کرتا پھر رہا ہے۔مسلم امہ کے درمیان مسموم فضا قائم کرنے میں لگا ہوا ہے۔یہ شخص کبھی حضرات معاویہ و مغیرہ (رضی اللہ عنہما)کی شان میں گستاخیاں کرتا ہے،
عجیب ذہنی مفلسی ہے کہ ایک ایسے صحابی ٔ جلیل القدر پر افترا پردازی کرتے ہوئے شمہ برابر شرم و حیا آڑے نہیں آئی:
جنھوں نے قبول ِ اسلام کے بعد اپنی زندگی کا سارا سارا حصہ حفظ احادیث نبی ﷺ،
ایسی عبقری شخصیت جنھوں نے آپﷺ کی خدمت میں اپنے آپ کو وقف فرما دیا۔کوئی گھڑی ایسی نہ گزری جس میں آپ ﷺکی خدمت ِ عالیہ سے غائب رہے ہوں۔
ایسی بے مثال اور لا زوال ہستی جن کی خدمات لا زوال اور جن کی کوششیں لا ثانی اور اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے اپنے تن من دھن سب کی قربانیاں پیش فرمائیں۔
ہجرت سے پہلے اسلام کی دولت سے مالا مال ہونے والے اس صحابی ٔ جلیل کی خدمات عظیم بھی ہیں اور کبیر بھی(مشہور تو یہی ہے کہ آں رضی اللہ عنہ نے سنہ ۷ ہجری میں خیبر والے سال میں اسلام قبول فرمایا۔لیکن دلائل،
جو اپنے زہد و ورع میں بے مثال،
ایک ایسے جلیل القدر حافظ حدیث جنھوں نے ۵۳۷۴ حدیثیں روایت کیں۔(سیر أعلام النبلاء:۲/۶۳۲)حدیث کی کوئی کتاب آپ کو ایسی نہیں ملے گی جس میں آپ کی احادیث بکثرت نہ مروی ہوں۔
آں رضی اللہ عنہ کی عبقری شخصیت ایسی ہستی نامدار کا نام ہے جن کے بارے میں امیر المؤمنین امام بخاری (رحمہ اللہ) کو کہنا پڑا:’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے دور کے جتنے بھی راویان حدیث ہیں ان میں سے سب سے زیادہ حافظ تھے۔‘‘ابو صالح السمان کو یوں گویا ہونا پڑا: ’’صحابہ ٔ کرام میں سب سے زیادہ حافظِ حدیث ابو ہریرہ ہیں۔(الإصابہ ۲/۲۰۵)حضرت کعب الأحبار فرماتے ہیں:توراۃ کے سب سے جانکار سیدنا ابو ہریرہ تھے۔(تذکرۃ الحفاظ:۱/۳۵)
ایسے قد آور حافظ حدیث جن کے فضل و منقبت کی گواہی خود صحابہ نے دی۔
ایسے حافظ حدیث رسولﷺ جن کی شان میں گستاخیاں کرنے والا دنیا ہی میں اللہ کی سزاؤں سے دو چار ہوا۔کسی پر سانپ گرا اور وہ مر گیا اور کسی ابو ریّہ نے (ابو ہریرہ نے مارا ڈالا،
جن کی ایسی سعادت کہ قوت ِحافظہ کے لیے خود رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی ہو۔(بخاری حدیث نمبر:۱۱۹)
وہ عظیم و عبقری شخصیت جنھوں نے حفظ احادیث رسولﷺ کے لیے اپنا سب کچھ تج دیا اور صرف ایک ہی لگن میں مگن رہے،
جن کی محبت کے لیے خود رسول ِ ہدایت ﷺ نے دست ِ دعا دراز کی،
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،
جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی جا بہ جا خدمت فرمائی ہو،
جنھوں نے حضرت حسن کا بطن مبارک حب آل بیت میں ڈوب کر چوما ہے۔(مسند احمد:۷۴۶۲،
وہ صحابی ٔ جلیل جنھوں نے نبی ٔ کریم ﷺ کو ٹوٹ کر چاہا۔ٹھیک اسی طرح جس طرح دیگر صحابہ نے آپﷺ کو چاہا تھا،
کیا آپ جانتے ہیں اس صحابی ٔ عظیم کا کیا نام ہے؟ایسی ستودہ صفات ہستی کا نام نامی اسم گرامی سیدنا ابو ہریرہ ہے،
آپ پر طعن و تشنیع کے تیر و تفنگ چلانے کا بیڑہ صرف آج کے گمراہوں نے نہیں اٹھایا بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کے منحوس عمل انجام دیے جاچکے ہیں مگر الحمد للہ محبان ِ صحابہ اور شیفتگانِ احادیث نبویہ نے ہمیشہ دفاع ِ صحابہ کا فریضہ انجام دیا۔
(۱)أبو هريرة: راوية الإسلام محمد عجاج الخطیب
(۲)ابو ہریرہ صاحب رسول اللہ ﷺ از:ڈاکٹر حارث بن سلمان
(۳)دفاع عن أبی ہریرۃ از:عبد المنعم صالح العلی العزی
(۴)أبو هريرة في ضوء مروياته بشواهدها وحال إنفرادهااز ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الأعظمی
(۵)دفاع عن أبي هريرة رضي الله عنه وإزالة الشكوك والشبهات حوله وحول مروياته دراسة نقدية وتحليلية از:عبد جلقادر بن حبیب اللہ السندی
(۶)سیرت حضرت ابو ہریرہ از طالب ہاشمی
یہ مستقل مؤلفات ہیں۔ان کے علاوہ صحابہ کی حیات و خدمات پر مشتمل تالیفات ہیں جن میں تذکرہ ٔ خیر فرمایا گیا ہے۔آپ کی مسند احادیث الگ سے یکجا بھی کی گئی ہیں۔





