جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

حالات ہمارے

کلام: شمیم عرفانی20 ستمبر، 20201,508قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ سچ کہ نہیں ملتے خیالات ہمارے
رسوا نہ مگر کیجیے جذبات ہمارے
بندش میں کہاں ہوتے ہیں حالات ہمارے
گردش میں سدا رہتے ہیں لمحات ہمارے
ٹوٹی ہوئی کشتی میں سبھی محو سفر ہیں
ڈر ہے کہ کہیں سچ ہوں نہ خدشات ہمارے
اے شیریں سخن! تجھ میں اگر تاب سخن ہے
پھر سب کو سنا آج یہ نغمات ہمارے
بجھتی ہوئی شمع نے کہا نور سحر سے
پل بھر میں بدل جاتے ہیں حالات ہمارے
ہم دور بہت دور سے تکتے رہے ان کو
وہ ڈھونڈھتے پھرتے تھے نشانات ہمارے
اے پیر فلک! ان کی بھی کچھ چارہ گری ہو
مجنوں جو بنے پھرتے ہیں حضرات ہمارے
لفظوں کے معانی کو سمجھنا تو ہے آساں
اے کاش کہ تم سمجھو اشارات ہمارے
کیوں شہر سیاست کے مکیں چیں بہ جبیں ہیں
ہیں مہر بہ لب سن کے سوالات ہمارے
اف! قوم مری آج بھی شجروں میں لگی ہے
انصار تمھارے ہیں تو سادات ہمارے
تھی پرسش احوال کی، کیا خوب، انھیں ضد
لو، وہ بھی چلے سن کے جوابات ہمارے
ہرچند وہ نالاں ہیں مگر ہم نے سنا ہے
چھپ چھپ کے پڑھا کرتے ہیں نغمات ہمارے
کس منہ سے بھلا کس کا پتہ پوچھ رہے ہو؟
سورج سے عیاں تر ہیں کمالات ہمارے
کیا دور ترقی ہے شمیمؔ اپنے وطن میں
جلتے ہیں شب و روز مکانات ہمارے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ش
شميم عرفاني
22 فروری، 2021
شکریہ، جزاكم الله خيرا اللہ آپ کو مبارک اور شاد رکھے۔آمین۔
O
Omar abdurrahman
20 ستمبر، 2020
بہت خوب ماشاء الله

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

حالات ہمارے - دی فری لانسر | دی فری لانسر