حقیقت چھپائی جاتی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تمھاری یاد تو کب سے مٹائی جاتی ہے
یہ کیا بلا ہے جو دل میں سمائی جاتی ہے
مجھ آئنے سے نظر یوں چرائی جاتی ہے
کہ میری بات ہنسی میں اڑائی جاتی ہے
میں پوچھتا ہوں کسی سے معاوضہ جب بھی
مجھے ضمیر کی قیمت بتائی جاتی ہے
نہیں ہے جس میں کوئی ذکر دشت و مجنوں کا
وہ داستانِ محبت سنائی جاتی ہے
وہ آشکار نہیں کرتے اپنے جلووں کو
’’نقاب میری نظر سے اٹھائی جاتی ہے‘‘
حجاب ہی سے تو پہچانتے ہیں عورت کو
بھلا کسی سے حقیقت چھپائی جاتی ہے
سفر ہے پیش بیاباں کے بعد دریا کا
درخت کاٹ کے کشتی بنائی جاتی ہے
لگی ہے روک مسافر کی لڑکھڑاہٹ پر
قدم قدم پہ مگر مے پلائی جاتی ہے
نہیں ہے کچھ بھی تمھارا ستم کیے جانا
مگر ہماری خودی آزمائی جاتی ہے
کسی امیر کی ایجاد کردہ آتش میں
کسی غریب کی دنیا جلائی جاتی ہے
تو سامنے ہے مگر دیکھ تو دیوانہ پن
تصورات کی محفل سجائی جاتی ہے
کبھی کلام ہو مردوں کے ضبط پر بھی شاد!
بپا ہے شور کہ عورت ستائی جاتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





