جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

پیمبر نہ ہو سکے

کلام: سراج عالم زخمی5 اکتوبر، 20202,062قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اب تک حصار ذات سے باہر نہ ہو سکے
آنکھوں کے خواب دید کے منظر نہ ہو سکے
توڑے بغیر سنگ تراشے نہ جائیں گے
وہ دل ہی کیا جو ٹوٹ کے پتھر نہ ہو سکے
اے غم بتا کہ ہم سے ترا واسطہ ہے کیا؟
ہم تجھ سے دور واقعی پل بھر نہ ہو سکے
آنکھیں وہ ٹوٹ ٹوٹ کے برسی ہیں ہجر میں
صحرا تھے ہم کہ اب بھی سمندر نہ ہو سکے
کیا ہمسری کی ہم سے تمنا کرے کوئی
ہم خود بھی اپنے قد کے برابر نہ ہو سکے
ہجرت، معاش، درد، محبت، وفا، فراق
کچھ ایسے معرکے تھے کبھی سر نہ ہو سکے
وہ ساتھ تھا تو ساتھ رہی کائنات بھی
بچھڑے تو پھر کسی کو میسر نہ ہو سکے
مانا کہ زندگی میں تھے غم اور بھی کئی
لیکن غم فراق سے بہتر نہ ہو سکے
پیری میں چل پڑے ہیں خدا ڈھونڈنے سراجؔ
جب تک تھے طور پر تو پیمبر نہ ہو سکے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

پیمبر نہ ہو سکے - دی فری لانسر | دی فری لانسر