جذبات کے ساتھ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تھے جو مربوط کبھی دوست مری ذات کے ساتھ
ہوگئے وہ بھی جدا گردشِ حالات کے ساتھ
یہ تو ہے ذکر ستم، یار خفا مت ہونا
نام آجائے تمھارا جو کسی بات کے ساتھ
قربِ جاناں سے معطر تو ہوا جسم مگر
روح بے چین ہوئی تشنہ ملاقات کے ساتھ
اپنے معصوم چراغوں کی حفاظت کرنا
جنگ لڑنی ہے ابھی نور کو ظلمات کے ساتھ
لاکھ محفل میں گلے ملتے رہے لوگوں سے
آج بھی دل نہیں ملتے کہیں جذبات کے ساتھ
ہم کو نفرت کی فضاؤں کو دکھا کر آنکھیں
زندہ رہنا ہے محبت کی روایات کے ساتھ
جن کو سمجھا تھا خدا، نکلے صنم پتھر کے
راز افشا یہ ہوا پہلی ملاقات کے ساتھ
نالے ندیوں سے تڑپ کر جو گلے ملنے لگے
یاد وہ آئے بہت موسم برسات کے ساتھ
خون خلقت سے زمیں سرخ ہوئی ہے شمسیؔ
زخم پھر تازہ ملا سال کی سوغات کے ساتھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





