کسے دیکھوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کتنے منظر عذاب کے دیکھوں
کس سے بدلوں نظر کسے دیکھوں
سب مسافر ہیں تپتے صحرا کے
ہائے کس کس کے آبلے دیکھوں
نیند کب تک نہ اور آئے گی
اور کب تک میں رتجگے دیکھوں
اب تو پتھر سی ہوگئیں آنکھیں
کیسے اب تیرے راستے دیکھوں
دیکھوں اشعار میں روانی کو
یا تقاضے عروض کے دیکھوں
زندہ رکھوں میں سنّتِ منصور
یا معاشی معاملے دیکھوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





