صحابہ کرام اس مقدس و محترم جماعت کا نام ہے جن کے واسطے سے قرآن وسنت کا گنج گراں مایہ ہم تک پہنچا ہے۔شرف صحابیت وہ عظیم عطیۂ الہٰی ہے جو کسی شخص کو محنت و کوشش سے نہیں ملتا،
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اس لیے صحابہ کرام سے محبت بھی رسول اللہ ﷺ کی محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے اور ہر سچا مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرتا ہے اور ان کی محبت کو جزوِ ایمان سمجھتا ہے،
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں اور جب وہ عادل ہیں تو پھر ہر قسم کے نقد و جرح سے بھی بالاتر ہیں۔دشمنان اسلام خوب جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلمانوں کے لیے آئیڈیل اور ہیرو ہیں اگر ان کی ذات اور شخصیت پر نقد کیا جائے تو بالواسطہ اسلام پر نقد و جرح ہوگی،
ادھر چند سالوں سے وقتا فوقتا اور بطور خاص ماہ محرم کے قریب آتے ہی کچھ بدقماش اور خبیث النفس افراد اپنی صحابہ دشمنی بلکہ اسلام دشمنی کا مختلف ذرائع سے اظہار کرتے رہتے ہیں،
معاوية ستر لأصحاب محمد ﷺ،
(تاريخ بغداد للخطيب:۱/۲۰۹،
یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ محمد ﷺ کے صحابہ کے لیے پردہ ہیں تو جب کوئی اس پردے کو چاک کردیتا ہے تو پیچھے والوں کے حق میں بھی جری ہو جاتا ہے۔اور واقعی ایسا ہی ہوا ہے،
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ایک مختصر مگر جامع سوانحی خاکہ پیش ہے:
نام و نسب:
زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبد شمس تھا (التاريخ الكبير للبخاري:۶/۱۳۲،
خود اللہ کے رسول ﷺ کبھی آپ کو أبو ھر(المستدرك للحاكم:۶۱۴۲،
پیدائش:
آپ کی پیدائش ہجرت نبوی سے تقریباً بیس سال قبل ہوئی۔
قبول اسلام:
آپ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تشریف لانے سے قبل ہی سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا تھا البتہ۷ھ میں غزوۂ خیبر کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور اس طرح آپ نے زائد از چار سال پیارے رسول ﷺ کی رفاقت میں گزارے۔(دفاع عن ابی ہریرۃ،
حصول علم کا شوق:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام کے بعد رسول اللہ ﷺ کو لازم پکڑ لیا،
آپ کے تمام صحابہ کرام سے زیادہ حدیث بیان کرنے کی وجہ بھی یہی ہے جیسا کہ وہ خود بیان کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں: ابوہریرہ نے بہت احادیث بیان کی ہیں۔اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا۔پھر انھوں نے ان آیات کو تلاوت کیا:’’جو لوگ چھپاتے ہیں ان کھلی ہوئی نشانیوں اور ہدایت کی باتوں کو جو ہم نے نازل کیں۔۔‘‘الرحیم تک۔بےشک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بازار میں خریدو فروخت کا شغل رہتا تھا اور ہمارے انصاری بھائی اموال و زراعت کے شغل میں لگے رہتے تھے لیکن ابوہریرہ تو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود رہتا تھا اور ایسے موقع پر حاضر رہتا جہاں لوگ حاضر نہ رہتے اور وہ باتیں یاد کر لیتا جو دوسرے لوگ یاد نہ کر سکتے تھے۔(صحیح البخاری:۱۱۸)
آپ کے شوق علم اور اسے حاصل کرنے کی تڑپ کو دیکھ کر ایک بار اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ،
آپ کے بکثرت احادیث بیان کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ کے بعد کم وبیش پچاس سال تک زندہ رہے اور حدیث کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا،
آپ کی اسی خوبی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک بار سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تھا:
أَنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
تلامذہ:
آپ سے کم وبیش آٹھ سو لوگوں نے روایات بیان کی ہیں،
روى عنه ثمانمائة رجل أو أكثر (التھذیب:۱۲/۲۶۵)شیخ عبد المنعم صالح العلی العزی نے آپ کے۷۲۵ شاگردوں کے نام مع حوالہ جات لکھے ہیں۔(دفاع عن أَبي هريرة،
آپ کے شاگردوں میں انس بن مالک،
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حافظہ:
اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کی دعا کی وجہ سے بڑا قوی حافظہ عطا فرمایا تھا۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں پھر بھول جاتا ہوں،
اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ ایک دفعہ مروان بن حکم اموی نے آپ سے کچھ احادیث لکھوائیں اور اگلے سال کہا:وہ کتاب گم ہو گئی ہے،
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی فقاہت:
بعض دشمنان صحابہ آپ رضی اللہ عنہ کو غیر فقیہ کہہ کر آپ کی تنقیص اور توہین کرتے ہیں حالانکہ آپ نہ صرف عہد صحابہ میں فتویٰ دیا کرتے تھے بلکہ آپ نے دور نبوت میں بھی بسا اوقات فتویٰ دیا ہے۔علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے ۱۳ صاحب افتاء صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا ذکر چوتھے نمبر پر کیا ہے۔(الاحكام في اصول الاحكام:۲/۹۲)جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ امیر المومنین فی الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ مفتی و مجتہد اور فقیہ بھی تھے۔اسی لیے امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
أبو هريرة الإمام الفقيه المجتهد الحافظ صاحب رسول الله ﷺ۔۔۔۔۔سيد الحفاظ الأثبات (السير:۲/۵۷۸)
تقوی اور دینداری:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بڑے متبع سنت اور پیارے رسول ﷺ کی ہر ہر حدیث پر عمل کرنے والے تھے۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان’’ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي؛
آپ کی عبادت گزاری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے رات کے تین حصے کر رکھے تھے،
آپ کی خشیت الہٰی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے شاگرد امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی عمر کے آخری مرحلے میں یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك أن أزني أو أعمل بكبيرة في الإسلام( اے اللہ میں زناکاری یا اسلام میں کوئی بھی گناہ کبیرہ کرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں)
آپ کے ایک ساتھی نے کہا: آپ جیسی عظیم شخصیت ایسی بات کہتی ہے حالانکہ آپ عمر کے جس مرحلے میں پہنچ چکے ہیں سو پہنچ چکے ہیں،
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے مرض الموت میں ایک مرتبہ رونے لگے تو آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمھاری اس دنیا پر نہیں رو رہا ہوں بلکہ اپنے سفر کی دوری اور زاد راہ کی قلت پر رو رہا ہوں،
مؤمنین اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت:
رسول اکرم ﷺ کی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی محبت کو ہر مؤمن کے دل میں ڈال دیا ہے،
اللهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا-يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ-وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ،
ابو ہریرہ کہتے ہیں:
فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي( پھر کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرے بارے میں سنا یا مجھے دیکھا ہواور مجھ سے محبت نہ کی ہو)[صحیح مسلم:۲۴۹۱]
سیدنا ابو ہریرہ کے تعلق سے امام ابو بکر محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے بڑی بہترین بات کہی ہے کہ:
چار طرح کے آدمی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر نقد کرتے ہیں:
(۱)جہمی معطل (جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر ہیں)
(۲) خارجی (تکفیری جو مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج اور بغاوت کے قائل ہیں)
(۳) قدری(معتزلی جو تقدیر اور احادیث صحیحہ کے منکر ہیں)
(۴)جاہل (جو فقیہ بنا پھرتا ہو اور بغیر دلیل کے تقلید کی وجہ سے صحیح احادیث کا مخالف ہو)
(المستدرك للحاكم:۶۱۷۶،
حلیہ مبارک:
آپ کا رنگ گورا تھا،
آثار علمیہ:
جہاں آپ نے آٹھ سو سے زائد شاگردوں کی عظیم جماعت تیار کی وہیں آپ نے صحابہ میں سب سے زیادہ حدیثیں بیان کی ہیں،
وفات:
آپ مدینہ طیبہ کے قریب وادی عقیق میں فوت ہوئے اور آپ کا جسد مبارک مدینہ لایا گیا،
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو ہمارے اہل وعیال کو اور تمام مسلمانوں کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ و اہل بیت سے محبت کرنے والا،





