جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

زباں ہم نگاہوں کی بھی جانتے ہیں

کلام: سحر محمود16 اکتوبر، 20201,992قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہم آدابِ زندہ دلی جانتے ہیں
اصولِ غمِ عاشقی جانتے ہیں
زباں ہم نگاہوں کی بھی جانتے ہیں
ہے کس میں تمھاری خوشی جانتے ہیں
مجھے آپ بھی اتنا ہی جانتے ہیں
فقط اتنا جتنا سبھی جانتے ہیں
کبھی غم نہ ظاہر کیا میں نے ان پر
’’وہ مرنا مرا دل لگی جانتے ہیں‘‘
محبت میں جینا محبت میں مرنا
یہی مقصدِ زندگی جانتے ہیں
انھیں مجھ سے خطرہ نہ مجھ کو ہے ان سے
ہم اک دوسرے کی کمی جانتے ہیں
ہماری نظر سے وہ دیکھیں تو جانیں
انھیں کس قدر قیمتی جانتے ہیں
کبھی ہم سے مرنے کی باتیں نہ کرنا
تمھیں اپنی ہم زندگی جانتے ہیں
ہیں غم کتنے اک مسکراہٹ کے پیچھے
کہاں وہ مری بے بسی جانتے ہیں
سحر زندگی کیا قیامت سے کم ہے؟
اگر آپ مفہوم بھی جانتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

M
Moinul haque Faizi
19 اکتوبر، 2020
ماشاءاللہ.... کیا اعلی تخلیق ہے جناب,خوب لکھا ہے

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

زباں ہم نگاہوں کی بھی جانتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر