آنکھ کو دریا نہ کریں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس طرح آپ سر بزم تو رسوا نہ کریں
میری جانب کبھی آنکھوں سے اشارہ نہ کریں
دھڑ کنیں، سانسیں، تمنائیں ٹھہر جاتی ہیں
آپ لِلّٰہ مجھے غور سے دیکھا نہ کریں
دل دھڑکتا ہوا سینے سے اچھل پڑتا ہے
اس طرح مجھ کو محبت سے پکارا نہ کریں
آئینے میں بھی سدا آپ کا چہرہ دیکھوں
ایسے آنکھوں میں خدارا تو سمایا نہ کریں
چھوڑ دیتا ہوں یہ پیراہنِ پیکر اپنا
اتنی شدت سے مجھے یاد تو آیا نہ کریں
احتیاطاً میں کسی اور سے ملتا ہی نہیں
آپ کو لوگ مری آنکھ میں دیکھا نہ کریں
اور بھی غم ہیں زمانے میں غم دل کے سوا
خشک رہنے دیں ابھی آنکھ کو دریا نہ کریں
جانے کیا سوچ کے آنکھیں بھی چھلک پڑتی ہیں
حال مفلس کا کبھی پیار سے پوچھا نہ کریں
بے یقینی میں ہوئے خواب بھی دھندلے دھندلے
سوتے سوتے بھی چراغوں کو بجھایا نہ کریں
اک نہ اک دن تو یہ حالات موافق ہوں گے
ٹوٹ بھی جائیں اگر آپ تو بکھرا نہ کریں
ہم محبت میں بھی اخلاص کے قائل ہیں سراجؔ
آپ مل جائیں تو اپنی بھی تمنا نہ کریں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





