جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جدا کر دیا گیا

کلام: خمار دہلوی20 اکتوبر، 20201,557قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
الفاظ کو اثر سے جدا کر دیا گیا
یعنی بدن کو سر سے جدا کر دیا گیا
پہلے تمام زخموں پہ چھڑکا گیا نمک
پھر مجھ کو چارہ گر سے جدا کر دیا گیا
بادِ تفکّرات کی من مانی ہوگئی
برگِ شجر، شجر سے جدا کر دیا گیا
تقلیدِ سنگ ذہنوں پہ حاوی تھی اس قدر
شیشے کو شیشہ گر سے جدا کر دیا گیا
نفرت کے بیچ صحن میں دیوار کھینچ دی
اس طرح گھر کو گھر سے جدا کر دیا گیا
دی مشکلوں سے پہلے اجازت اڑان کی
پھر حوصلے کو پر سے جدا کر دیا گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جدا کر دیا گیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر