جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آسماں تلک

کلام: سراج عالم زخمی28 اکتوبر، 20202,103قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس شخص سے میں خود کو بچاؤں کہاں تلک
پھیلا ہوا ہے مجھ میں مرے جسم و جاں تلک
آہو! حصار جسم سے باہر نکل کے آؤ
فریاد بھیجنی ہے مجھے آسماں تلک
تخییل کے بدن پہ نگاہوں کے لمس سے
لکھا ہے میں نے نام ترا کہکشاں تلک
ملتے ہیں احترام سے، عزت سے، پیار سے
یہ روگ آج بھی ہے مگر درمیاں تلک
بے گھر تھے، رحمتوں سے بھی محروم رہ گئے
پھیلی ہوئی تھی چھاؤں مگر سائباں تلک
خود کو بچاؤں، جسم سنبھالوں کہ روح کو
بکھرا ہوا ہے درد یہاں سے وہاں تلک
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آسماں تلک - دی فری لانسر | دی فری لانسر