ٹوٹ جاتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مری آنکھوں کے دریا سے سمندر ٹوٹ جاتا ہے
مقدر کو جو دیکھوں تو مقدر ٹوٹ جاتا ہے
بہت ڈرتا ہوں اپنے پیار کا اظہار کرنے سے
جو ہوتا پیار دو طرفہ وہ اکثر ٹوٹ جاتا ہے
بہت جی چاہتا ہے لے کے اُڑ جاؤں غم دنیا
مگر کوشش ہی کرنے میں مرا پر ٹوٹ جاتا ہے
تصور میں کبھی جب تم ذرا سا پاس آتے ہو
مرے غم کا مقدر مجھ پہ آ کر ٹوٹ جاتا ہے
لکھی تاریخ ایسی ظالموں نے قطرہ خوں سے
جب آئے چھے دسمبر تو کیلنڈر ٹوٹ جاتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
I
Imran Ataai
2 نومبر، 2020واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ واااااہ بہترین غزل





