مدارس کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک تجویز(پہلی قسط)
تعليمى اداروں کو چار کیٹگریز میں تقسیم کردیں: (۱)بڑے (۲)درمیانی (۳)چھوٹے (۴) بہت چھوٹے ادارے۔
بڑے اداروں کے اِنکم سورسز عموما بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ایسے اداروں کی اوقاف بھی ہوتی ہیں اور ان کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں،
مسئلہ بقیہ کیٹگریز کا ہے۔یہ تجویز بھی عموما انھی اداروں کے لیے ہے۔
آپ جانتے ہیں زیادہ تر مدارس عوامی چندہ پر چلتے ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان مدارس کے پاس بجٹ نہیں ہے۔اساتذہ کی چھٹنی ہورہی ہے،
مدارس کے ذمہ داروں کو یکطرفہ مورد الزام ٹھہرانا بھی غلط ہے اور دھڑا دھڑ بے دردی سے اساتذہ کو مدارس سے نکالنا بھی غلط ہے۔
اب مسئلہ ہے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری کس پر آتی ہے۔کون اقدام کرے؟ بلاشبہ اس کی اولین ذمہ داری مدارس کی لیڈرشپ پر ہی آتی ہے۔انھیں چاہیے کہ سبھوں کو اپنے سینہ سے لگالیں۔سبھوں کو آن بورڈ لے لیں۔ان کے سامنے مسائل رکھیں اور اس پر قابو پانے کے لیے مشورے حاصل کریں۔اچھی مناسب اور عملی تجاویز اور مشوروں کو قبول کرکے ان کی روشنی میں ایکشن پلان بنائیں۔اور اللہ کا نام لے کر میدان میں اتر جائیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ جب ذمہ دار ایمانداری کے ساتھ سبھوں کو اعتماد میں لے کر یک جٹ ہوکر محنت کریں گے تو ضرور کامیابی کی راہیں کھلیں گی۔ایسے متحد اداروں کو ضرور اللہ کی تائید حاصل ہوگی اور وہاں وہاں سے مدد ملے گی جہاں سے کوئی گمان بھی نہ ہوگا۔اور عوام کا بھر پور اعتماد بھی حاصل ہوجائے گا۔شکوے شکایتیں زیادہ تر ناکام لوگ ہی کرتے ہیں۔جواں مردی یہی ہے کہ اس مشکل پر ہر حال میں قابو پانے کا عزم کیا جائے۔آخر ہم کب تک ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟
آخر میں اداروں کے دیگر متعلقین سے میری گذارش ہے کہ:
٭ ہر فارغ التحصیل اپنے ادارہ کی ضرور خبر گیری کرے۔حسب استطاعت اپنی مادر علمی کا کچھ نہ کچھ ضرور تعاون کرے۔مالی تعاون چاہے کتنا ہی کم کیوں نہ ہو اس کو وہ حقیر نہ سمجھیں،
٭ طلبہ و طالبات کے والدین اور سرپرستوں سے بھی میری مؤدبانہ گذارش ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کے تعلیمی اداروں کے مالی تعاون کے لیے آگے بڑھیں۔یہ ادارے آپ کے بھی ہیں کیونکہ وہ آپ کے بچوں کے مستقبل کے ضامن ہیں۔آپ خود بھی دست تعاون بڑھائیں،
٭ اسی طرح سے مدرسہ کے محلہ اور گاؤں کی جنرل پبلک اور عوام بھی تماشائی بن کر نہ بیٹھے۔دینی ادارے اسلام کے قلعے ہیں۔ان کے گرجانے سے آپ بھی اور آپ کی نسلیں بھی متأثر ہوں گی۔لہذا ان کی حفاظت کی ذمہ داری آپ پر بھی آتی ہے۔
٭ آخر میں مال داروں،





