درد جو شعر میں مذکور ہوا کرتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی کا یہی دستور ہوا کرتا ہے
کوئی جابر کوئی مجبور ہوا کرتا ہے
عاشقوں کا کوئی معیار نہیں ہوتا ہے
عشق میں آقا بھی مزدور ہوا کرتا ہے
بے وفائی کا نہ الزام لگاؤ مجھ پر
کفر، مومن سے بہت دور ہوا کرتا ہے
پڑھ نہیں پاتیں زمانے کی یہ بوڑھی آنکھیں
درد جو شعر میں مذکور ہوا کرتا ہے
تم ستم ڈھا کے بھی آرام نہیں پاتے ہو
دل ستم سہہ کے بھی مسرور ہوا کرتا ہے
شور ایسا ہے کہ انداز ہی کھا جاتا ہے
چیختا ہے جو وہ مشہور ہوا کرتا ہے
نیند اب بھی سر بالیں ہی حسن رہتی ہے
خواب پلکوں سے ہی کافور ہوا کرتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ع
عبداللہ سہل
10 نومبر، 2020ماشاء اللہ حمود بھائی....
اللہ مزید ترقی عطا فرمائے آمین





