جنگ تراش
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گر مصور ہے تو معشوق کوئی سنگ تراش
گل و لالہ کی طرح یار کا ہر انگ تراش
فلسفہ رنگ کا مخلوق نے سمجھا ہی نہیں
اے خدا اب سبھی انسان کو یک رنگ تراش
شرمگیں آنکھ سے محبوب کی حامی کو بنا
ہوبہو آنکھ، وہی عارضِ گل رنگ تراش
محفلِ عشق میں آنا ہے تو سب سے پہلے
بات کرنے کا سلیقہ ذرا کچھ ڈھنگ تراش
لہر خاموش، ہوا سرد، میں کھویا کھویا
لب ساحل پہ کوئی رینگتا خرچنگ تراش
اب نہ پھر بے کس و مظلوم کی تصویر بنا
ظلم کی بیڑیاں توڑے جو وہی جنگ تراش
گردن کفر پہ توحید کی یوں ضرب لگا
پھر وہی تیغ اٹھا اس پہ جما زنگ تراش
میرا فنکارئِ اسعؔد پہ یقیں اور بڑھے
آئینہ دوست ہو اک ایسا کوئی سنگ، تراش
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





