کیا تری زلف پریشان میں رکھا ہوا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کیا بھلا زیست کے عنوان میں رکھا ہوا ہے
موت کا زہر جو انسان میں رکھا ہوا ہے
جس کو رکھنا تھا سراپائے عمل میں اس کو
ہائے کس شان سے جزدان میں رکھا ہوا ہے
ہم فقیروں کو کہاں خواب سجانا آیا
خواب کا ڈھیر تو دالان میں رکھا ہوا ہے
سانس کی ڈور تلک اب تو نکلنے سے رہا
تو مری جان مری جان میں رکھا ہوا ہے
میں نے دیکھی ہے تری زرد عطاؤں کی بہار
میرا ٹکڑا ترے احسان میں رکھا ہوا ہے
ہم مہاجر ہیں ترے ذوق نظر سے محروم
چاند کا نور جو سامان میں رکھا ہوا ہے
چند بالوں کی سیاہی پہ اجالے مرجائیں؟
کیا تری زلف پریشان میں رکھا ہوا ہے
تونے جس ڈھب سے فقیروں کو یہاں رکھا ہے
تو بھی اللہ کی میزان میں رکھا ہوا ہے
نہیں آنکھوں میں تری وہ بھی امیر شہراں
جو ترے قصر کے دربان میں رکھا ہے
اب تو چپ رہنے کا میں نے بھی ارادہ کیا ہے
راکھ کا ڈھیر جو ایوان میں رکھا ہوا ہے
بس وہی درہم ودینار کی آوازیں کچھ
ورنہ کیا خاک تری آن میں رکھا ہوا ہے
تو نے رمضان میں جو جلوہ نمائی کی ہے
یار وہ خرقہ شعبان میں رکھا ہوا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





