محشر بپا کر دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مرے دل کی نگاہوں کو وہ بینائی عطا کر دے
جو تیری ذاتِ پر اسرار کو جلوہ نما کر دے
کوئی لمحہ نہ ایسا ہو کہ میں غافل رہوں تجھ سے
مری سانسوں کو یا اللہ! مصروفِ ثنا کر دے
کہاں سے گفتگو کا وہ سلیقہ، وہ ہنر لاؤں
ترے دربار میں یا رب! جو عرض مدعا کر دے
نہ ہو ایسا کہ میری نیکیوں کی بھوک مٹ جائے
گناہوں کو زبانِ دل کی خاطر بد مزا کر دے
کبھی تیرے قفس سے مجھ کو آزادی نہ راس آئے
مجھے دنیا کے سارے قید خانوں سے رہا کر دے
خوشی ایسی نہ مجھ کو دے کہ تجھ سے دور ہو جاؤں
جو تیرے قرب کا باعث ہو ایسا غم عطا کر دے
مجھے معلوم ہو جائے مرا انجام کیا ہوگا
جہان دل میں یا اللہ! اک محشر بپا کر دے
دعا دستک پہ دستک دے رہی ہے تھک گئی ہوگی
مرے اللہ! تو بابِ اثر کو اب تو وا کر دے
اک ایسا لمحہ آئے جب کہ تو راضی رہے مجھ سے
زہے قسمت اسی لمحے مری ہستی فنا کر دے
الہی! حوصلہ تو شادؔ عاصی کا سلامت رکھ
ارادہ ہے کہ جان و دل تری خاطر فدا کر دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





