۱۹۶۷ء یا ۱۹۶۸ء میں تلشی پور،
بہرحال یاد نہیں کانفرنس کا واقعہ ۶۷ کا ہے یا ۶۸ کا۔اس میں بزرگوں کے ساتھ شریک ہوا۔اپنا علاقہ،
سارے جلوے دیکھے،
میں پہلے ان کا تماشائی تھا پھر شناسائی بنا۔دور ونزدیک سے ہمارے گھرانے کی ان کے خاندان سے کئی رشتہ داریاں تھیں۔اس لیے دوری بھی نہیں تھی لیکن میری طبعی کم آمیزی نے دوری بنائے رکھی۔ہماری اُن کی شناسائی اس وقت ہوئی جب میں ۱۹۸۲ء میں جامعہ سلفیہ میں مدرس کی حیثیت سے کام کرنے گیا۔ایک بار وہ بنارس جامعہ سلفیہ تشریف لائے اور مجلہ الجامعۃ السلفیہ کے میرے ایک عربی مضمون’’السیاسۃ العرجاء‘‘ کے حوالے سے پوچھتے آئے ’’عبدالمعید کون ہے میں اُسے سو روپیہ انعام دوں گا۔‘‘جب انھیں میرے متعلق آگاہ کیا گیا تو فرمایا یہ تو میرا رشتہ دار ہے۔پھر اس کے بعد بارہا ملاقات ہوئی اور بسا اوقات عربی میں گفتگو کرتے۔تفسیری نکات بیان کرتے،
مولانا سے آخری ملاقات اپریل کے آخری ہفتے میں جھارکھنڈ مولانا عبدالستار سلفی کی حویلی میں ہوئی۔مولانا مدھوپور اور جامتاڑا ضلعوں کی اہل حدیث بستیوں میں کئی دہے سے تشریف لے جاتے رہے۔اس بار دو روزہ تعلیمی کانفرنس میں تشریف لے گئے تھے،
ان کی پہچان نہ خاندان سے ہے،
جنگ آزادی کے آخری دنوں میں بلاتفریق مذہب وملت بہتوں نے حصہ لیا۔جن کی تعداد حدشمار سے باہر ہے البتہ ان میں قائدانہ رول انھی لوگوں نے ادا کیا جو نظریاتی طور پر قیادت کرسکتے تھے۔مولانا نے قائد کا درجہ حاصل کیا۔اللہ تعالیٰ نے مفسر قرآن کو جو استعداد عطا کی تھی اس کے سبب وہ جہاں رہے ممتاز اور نمایاں رہے۔اُن کے اندر نہ زمینداری کا غرور تھا،
کسی فرد کا کردار تشکیل پاتا ہے بے نفسی،
اُن کی محبوبیت کا منظر میں نے دیکھا بھی ہے اور سنا بھی ہے۔کسی بھی محفل میں جاتے مستفیدین ان کے ساتھ ہوتے۔اور اُن کو سننے کے شائق رہتے۔علماء کی محفلوں میں قرآنی نکات بتاتے۔دوسال قبل اہل حدیث کمپلیکس میں منعقد سیمینار کی آخری نشست میں تقریر کی۔تقریر میں علماء کے اوپر محویت طاری تھی۔اختتام نشست کے بعد سبزہ زار پر ایک محفل جمی۔سوالات اور گفتگو کا دور شروع ہوا۔ایک گھنٹہ کی محفل میں ہر سوال کا جواب نکات قرآنی کی شکل میں دیا۔وہ لطف آیا کہ قرآنی معارف الٰہیہ لوگوں کی نگاہوں میں پھرگئیں۔
محبوبیت کا منظر ڈابھاکیند جھارکھنڈ میں دیکھا۔ایک خلقت امنڈ پڑی تھی انھیں دیکھنے کے لیے۔ان کا وہاں کی عوام سے شاید تیس سال سے تعلق تھا۔اس خطہ میں ۸۰ گاؤں میں اہل حدیث آبادی پھیلی ہوئی ہے۔گاؤں گاؤں مولانا کا دیکھا بھالا تھا جب طاقت تھی پیدل اور سواریوں کے ذریعہ قریہ قریہ پہنچ کر مولانا نے لوگوں کو اپنے وعظ ونصیحت سے نوازا۔دیکھا کہ بوڑھے جوان مولانا کی خدمت کررہے ہیں کوئی سر دبا رہا ہے کوئی پیر دبا رہا ہے کوئی جسم دبا رہا ہے۔ایسا مولانا زکریا سہارنپوری کے متعلق سنا تھا۔اور پھر ڈابھا کیند میں اس منظر کا مشاہدہ ہوا۔رسول گرامی نے محبوبیت کا نسخہ بتلایا۔لوگوں سے غرض نہ وابستہ رکھو،
کردار انسان کو عظمت ورفعت عطا کرتا ہے اور قدم قدم پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔اگر انسان کردار سے خالی ہو اور پڑھا لکھا ہو تو قرآن کی اصطلاح میں اُسے گدھے کے مماثل قرار دیا گیا۔آج سماج میں ایسے گدھوں کی کثرت ہے۔
رحمانی علماء اخلاق وکردار،
مفسر قرآن کی زندگی کے تین حصے ہیں:
(۱)۱۹۴۰ء تک تعلیم وتعلم(۲)۱۹۶۷ء تک سیاست (۳) ۱۹۶۷ء سے ۲۰۰۸ء تک دعوت۔
مفسر قرآن ۲۰؍جنوری ۱۹۲۰ء میں موضع دودھونیاں ضلع سدھارتھ نگر یوپی میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی۔فارسی کی تعلیم جھنڈا نگر میں ہوئی۔مدرسہ فیض عام مئو میں عربی کے ابتدائی درجات کو پورا کیا۔پھر دارالحدیث رحمانیہ دہلی میں داخلہ لیا اور ۱۹۴۰ء میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔اہم اساتذہ میں مولانا احمد اللہ پرتاپگڈھی جن کا نام کثرت سے مفسر قرآن لیا کرتے تھے،
رحمانیہ میں آپ کی تعلیمی کارکردگی مثالی تھی۔تقریر،
مولانا نے پنجاب بورڈ سے مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔اور وقت کے دیگر مشاہیر سے بھی استفادہ کیا جیسے مولانا سعید احمد اکبر آبادی وغیرہ۔
دہلی میں مولانا کا تعلیمی دورانیہ سیاسی سرگرمیوں کا تھا۔آزادی کی آمد آمد تھی،
سیاست کی دنیا میں رہتے ہوئے انھوں نے چند عصری ودینی تعلیمی ادارے بھی قائم کیے۔۱۹۴۸ء میں انھوں نے بڑھنی بازار سدھارتھ نگر میں ایک ہائی اسکول کی بنیاد رکھی جو اب انٹر کالج بن چکا ہے۔موضع مہدیا ضلع سدھارتھ نگر میں ’’مسلم ہائرسکنڈری اسکول‘‘قائم کیا وہ ایک تسلیم شدہ کامیاب ادارہ ہے۔
موضع اکرہرا (سدھارتھ نگر) میں ’’مدرسہ اسلامیہ‘‘ کی تاسیس کی جو کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کے پچیس سال تک صدر رہے۔
مولانا کی سب سے کامیاب کوشش ان کی دعوت وتبلیغ ہے۔ان کی دعوت وتبلیغ کی کئی خوبیاں تھیں:
٭ انھوں نے جلسہ جاتی فاؤل تقریروں کے درمیان قرآنی آہنگ کو پروان چڑھایا اور اُن کا یہ خاص رنگ اتناکامیاب ہوا کہ چالیس سال تک اس آہنگ میں فتور نہیں آیا۔یکساں ڈیمانڈ قائم رہا۔
٭ قرآن کے معانی کو عوام تک پہنچانے اور آسان تر بنادینے کا ایک نمایاں کام کیا۔
٭ قرآنی تعلیمات اور معانی ومفاہیم کو اپنے عام فہم اسلوب میں عوام کے لیے نہایت پرکشش بنادیا۔بہت سے مقدس علماء کرام ان کے طرز تفسیر وطرز بیان کو علمی معیار پر ناپ کر سوالیہ نشانات کھڑا کرتے تھے۔جب کہ مفسر قرآن اس کے برعکس معانی قرآن کو عام فہم اسلوب میں عوام کے لیے آسان انداز میں پیش کرتے تھے۔اور اُن کی کامیابی کا راز یہی تھا جس کو نافہم نہیں سمجھتے تھے۔
٭ ان کا قرآنی استحضار حیرت انگیز تھا۔ان کا استحضار اتنا حیرت ناک تھا کہ اچھے اچھے حفاظ کرام ان کی مانند موقع بہ موقع آیتیں سنا نہیں سکتے۔اپنی ایک تقریر میں کئی درجن آیتیں اور بسا اوقات سو سے زیادہ آیتیں حسب موضوع سنادیتے تھے اور اُن کی عام فہم تشریح کردیتے تھے۔
٭ ان کی تقریر کی جاذبیت کا سبب اُن کا اخلاص تھا۔کبھی انھوں نے اپنی دعوت وتبلیغ کو کمائی کا ذریعہ نہ بنایا۔نہ لوگوں کا دل لبھانے کے لیے غیر سنجیدہ وسطحی وسیلہ اپنایا۔نہ آؤ بھاؤ دکھلایا۔نہ کبھی پیری مریدی کا سرمہ لگایا نہ گانا گایا۔جس نے پکارا پہنچے پیدل بھی پہنچے،
دعوت وتبلیغ میں اتنا انہماک کہ بسا اوقات ہر روز تقریر اورکئی تقریر۔ہندوستان کے وہ تمام خطے جہاں اردو بولی جاتی ہے مفسر قرآن کی تقریروں کی آواز وہاں ضرور گونجی۔لوگوں نے انھیں سنا اور سردھنا اور کمال یہ کہ اُن سے جب بھی مانگ ہوئی تقریر کے لیے تیار اور جتنا وقت دیا گیا منظور۔کوئی رد وقدح نہیں۔دین کا تابعدار سپاہی آگے لگادو خوش پیچھے لگادو تیار،
ان کی خطابت کی راہ اتنی مشکل تھی اور خود ان کی اپنی ایجاد کردہ کہ دوسرے اس پر چل نہ سکے۔دراصل اس کے لیے قرآن کریم میں انہماک اول وآخر شرط ہے اور بصیرت وشجاعت ضروری ہے۔اگریہ سب چیزیں نہ ہوں تو اس راہ پر نہیں چلا جاسکتا۔
مولانا نے جس دعوتی اور علمی ماحول میں اپنے دعوتی عمل کو جاری رکھا و ہ اخلاقی فساد،
۲۰؍جنوری ۱۹۲۰ء میں جس کی سانسوں کا قافلہ شروع ہوا ۲۸؍مئی ۲۰۰۸ء کو ۱۱ بجے دن میں وہ قافلہ رک گیا۔نماز جنازہ گاؤں میں پڑھی گئی اور گاؤں کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔مفسر قرآن نے اپنے پیچھے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔اللہ تعالیٰ انھیں صبر جمیل عطافرمائے اور اُن کی اولاد واحفاد میں ان کا نعم البدل عطا کرے۔آمین
اللہ کی رحمتیں صبح وشام نازل ہوں مفسر قرآن پر۔اور ان کے درجات بلند ہوں اور ورثاء کو صبرکی توفیق ملے۔آمین
تصنیف وتالیف کی دنیا میں انھوں نے قدم نہیں رکھا۔چند ایک رسالے انھوں نے شائع کیے۔ایک بار الاستقامہ کے لیے ایک عربی مضمون بھی لکھاتھا۔اور چھپنے کے لیے مجھےدیا۔لیکن پھر واپس لے لیا۔
مولانا نہایت ذہین فطین آدمی تھے،
ادھر مولانا کادوایک سفر سعودی عرب اور کویت کا بھی ہوا۔وہاں کے اہل علم اورقدردانوں نے ان سے علمی پیاس بجھائی اوران سے سند عالی حاصل کی۔اہل علم کی علمی پذیرائی ہونی چاہیے۔یہ بھی ایک المیہ ہے اس وقت مزاج اس قدر بگڑگیاہے کہ اہل علم حاشیے پر ہوگئے ہیں اورنااہل دعوت دین کے نام اپنی نااہلی کاتماشا دکھلاتے پھر رہے ہیں۔





