جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دل بھی پاگل ہے کہ جینے کا بھرم اوڑھے ہے

کلام: سراج عالم زخمی2 دسمبر، 20201,982قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
درد اوڑھے ہے، تھکن اوڑھے ہے، غم اوڑھے ہے
دل بھی پاگل ہے کہ جینے کا بھرم اوڑھے ہے
شہر نفرت کی ہواؤں کا کرم اوڑھے ہے
آگ اوڑھے ہے، دھواں اوڑھے ہے، بم اوڑھے ہے
درد آنکھوں میں اتر آیا ہے پانی بن کر
آتش سوز دروں قطرۂ نم اوڑھے ہے
عشق میں خاک نوردی کی تب و تاب کہاں
یہ جنوں ہے جو نبھانے کی قسم اوڑھے ہے
بعد مرنے کے بھی آیا نہ کوئی میت پر
مفلسی خاک بھی اوڑھے ہے تو کم اوڑھے ہے
گذرے وقتوں کی کہانی ہے یہ ایثار و خلوص
اب تو ہر شخص ہی دینار و درم اوڑھے ہے
حرف کوئی بھی تہ آب معانی نہ گیا
یوں تو ہر لفظ ہی گلگونِ ارم اوڑھے ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ع
عثمان غنی
9 دسمبر، 2020
ماشاء، زبردست کیا درد ہے

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دل بھی پاگل ہے کہ جینے کا بھرم اوڑھے ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر