سوال کی اہمیت و افادیت ہر وقت اور ہر دور میں مسلم رہی ہے،
لیکن اس تحریر میں ایک الگ سوال کے بارے میں ذکر ہوگا اور وہ ہے کسی مسئلے کے بارے میں شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لیے استفسار کرنا اور کسی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سوالات کرنا جو کہ انسانی زندگی میں نہایت ہی اہم ہے اور جس کے بغیر کوئی بھی شخص زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کامیاب و کامران نہیں ہوسکتا کیونکہ انسانی زندگی میں سوالات کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اسی اہمیت کے پیش نظر خود اللہ تعالیٰ نے سوال کرنے کا حکم دیا ہے فرمان الٰہی ہے:
فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون(اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو)
لہذا ہمیں کسی بھی مسئلے کی وضاحت کے لیے سوالات کرنے میں شرمانا اور ہچکچانا نہیں چاہیے کیونکہ جہالت اور لاعلمی ایک بیماری ہے اور اس کی دوااور شفا سوال کرنے میں ہے۔
سنن ابی داؤد کی ایک روایت ہے:
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ،
پھر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو پورے واقعے سے باخبر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان لوگوں نے اسے قتل کردیا اللہ انھیں ہلاک کرے،
لہذا اگر ہمیں کسی مسئلے کے بارے میں علم نہیں ہے تو اس کے بارے میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے پہلی فرصت میں معلومات حاصل کرنا چاہیے خصوصا دینی و فقہی مسائل میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی بےجا اور غیر ضروری سوالات سے اجتناب کرنا اور بچنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ(انچیزوں کے بارے میں سوالات نہ کرو کہ اگر وہ تمھارے لیے واضح ہوجائیں تو تمھیں تکلیف پہنچے)
اور ایک متفق علیہ روایت ہے:
عن المغيرة بن شعبة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ،
۱۔قیل و قال (کٹ حجتی) کرنا
۲۔مال و دولت کو ضائع و برباد کرنا
۳۔بہت زیادہ (بے جا) سوالات کرنا
لہٰذا آپ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ آپ کو جو بھی مسئلہ در پیش ہو بغیر کسی جھجھک اور شرم کے اس بارے میں شریعت کا حکم اور اس کی تعلیمات دریافت کریں لیکن سوالات کرنے میں مذکورہ بالا باتوں کا بھی خاص خیال رکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینی مسائل کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین





