مے خوار مر گئے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مایوسیاں سمیٹ کے ہم یار مر گئے
جینے کی آرزو میں کئی بار مر گئے
صبح ازل سے خوشیاں نچھاور رہیں مگر
ہم عشق کے فریب میں بے کار مر گئے
اس کے لبوں پہ شبنمی قطرے کو دیکھ کر
افکار جاں بحق ہوئے اشعار مر گئے
دریا سے التجا کی مگر کچھ نہیں بنا
ہم تشنہ لوگ پیاس سے لاچار مر گئے
یہ زندگی بھی مجھ پہ مہربان اب ہوئی
جب سارے خواب بر سر پیکار مر گئے
دریائے غم عبور کریں بھی تو کس طرح
اس پار جو بچے تھے وہ اس پار مر گئے
بستی کے سارے لوگ ہیں کیوں سوگوار آج
لگتا ہے میرے یار طرح دار مر گئے
ممتازؔ فکر و فن کی یہ راتیں سجائے کون
اس مے کدے کے ساقی و مے خوار مر گئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





