جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کوئی بتلائے یہ مجھ کو جو ہوا ہے، کیا ہے؟

کلام: سراج عالم زخمی12 دسمبر، 20201,430قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دھوپ ہے، چھاؤں ہے، ظلمت ہے، ضیا ہے، کیا ہے؟
شہر ہے، آگ ہے، جنگل ہے، خلا ہے، کیا ہے؟
اپنے سائے سے ہراک شخص ہے لرزاں ترساں
خواب ہے، وہم ہے، وحشت ہے، بلا ہے، کیا ہے؟
اس قدر مجھ کو حقارت سے وہ کیوں دیکھتا ہے
وہ پیمبر ہے، فرشتہ ہے، خدا ہے، کیا ہے؟
یہ جو اک شخص پس آئینہ آتا ہے نظر
کوئی انسان ہے، انسان نما ہے، کیا ہے؟
اس کا انداز سخن مجھ کو نہ پاگل کر دے
مجھ کو ہر بات پہ کہتا ہے کہ کیا ہے، کیا ہے؟
عشق جب ہو ہی گیا ہے تو تامل کیسا
خاک اب سوچنا اچھا ہے، برا ہے، کیا ہے؟
حق انساں کے علمدار کہاں بیٹھے ہیں
ظلم جو کچھ مری نسلوں پہ روا ہے، کیا ہے؟
مانتا ہوں کہ قیامت ہے قیامت لیکن
میں نے اب تک یہ جو اک عمر جیا ہے، کیا ہے؟
ایک ہی عکس نگاہوں میں ہے چلتے پھرتے
کوئی بتلائے یہ مجھ کو جو ہوا ہے، کیا ہے؟
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کوئی بتلائے یہ مجھ کو جو ہوا ہے، کیا ہے؟ - دی فری لانسر | دی فری لانسر