جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ

کلام: م . ع . اسعد16 دسمبر، 20201,243قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پلکوں پہ سب بٹھائیں، گودی میں سب کھلائیں
ہنستا ہوا جو دیکھیں تو وہ بھی مسکرائیں
شام و سحر کسی پل گر سن لیں میری آہیں
میری خوشی کی خاطر گھوڑا بھی بن دکھائیں
بن جاؤں میں دوبارہ آنکھوں کی سب کا تارا
اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ
ہر شب پری کے قصے، امی مجھے سنائیں
’میرے جگر کا ٹکڑا‘ کہہ کر مجھے بلائیں
اَبّا کی چھٹیوں کے جب دن کبھی بھی آئیں
تو سائیکل سے مجھ کو تڑکے گھما کے لائیں
بہنے لگے زمانے کی کاش الٹی دھارا
اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ
نے فکر زندگی تھی، نے اس پے جاں نثاری
درد و الم کے سارے احساس سے تھا عاری
سارا جہان میرا،بس تھی وہ ایک ناری
آواز جس کی مجھ کو لگتی تھی سب سے پیاری
وہ دن گزر گئے، اب ہوں مشکلوں کا مارا
اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ
یاروں کے ساتھ مل کر بارش میں وہ نہانا
ساحل پہ بیٹھ کر وہ بالو کے گھر بنانا
کتنے حسین پل تھے، کتنا حسیں زمانہ
سب کچھ بدل گیا اب، سب ہو گیا فسانہ
آخر ہوا کیوں ایسا، کیا جرم تھا ہمارا
اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ
بچپن کے سارے ساتھی روپوش ہو گئے ہیں
موجود ہیں جو وہ بھی خاموش ہو گئے ہیں
لگتا ہے جیسے گویا بے ہوش ہو گئے ہیں
دنیا کے پیچھے ایسے مدہوش ہو گئے ہیں
اس سے تو اچھا اسعد بچپن ہی تھا ہمارا
اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

Z
Zubair Ahmad
18 دسمبر، 2020
ما شاءالله،بہت خوب

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اے کاش لوٹ آئے بچپن مرا دوبارہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر