میں کسے اپنا کہوں کوئی ہمارا تو ملے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عالمِ ہُو میں امیدوں کا اشارہ تو ملے
زندہ رہنے کا کوئی ایک سہارا تو ملے
کیا ستم ڈھائے ہیں تنہائی نے بتلاؤں اسے
مجھ کو بچھڑا ہوا وہ شخص دوبارہ تو ملے
اس کی آنکھوں کے سمندر نے ڈبویا ہے بہت
کیسے بچ نکلوں مجھے کوئی کنارہ تو ملے
کالی راتوں میں کہاں اس کو تلاشوں مولا
راہ بتلائے کوئی ایسا ستارہ تو ملے
گلشنِ دل میں نئے پھول کِھلیں شان کے ساتھ
اس پری زاد کے چہرے کا نظارہ تو ملے
راہ میں خوف کا پہرہ ہو کہ کانٹوں کا ہجوم
غم نہیں کوئی مگر پیار تمھارا تو ملے
مجھ کو ممتاز سبھی اپنا کہے جاتے ہیں
میں کسے اپنا کہوں کوئی ہمارا تو ملے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





