اللہ رب العالمین کی نازل کردہ آخری شریعت ہر زمان ومکان کے لیے بالکل مناسب اور موزوں ہے،
شریعت اسلامیہ نے یہود ونصاری کے کفریہ وشرکیہ عقائد اور باطل عادات ونظریات کی مخالفت پر بہت زور دیا ہے اور اس موضوع پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک بہترین کتاب "اقتضاء الصراط المستقيم..." تالیف فرمائی ہے۔
مسئلہ کی نوعیت یہ ہے کہ اگر کوئی نصرانی،
مذکورہ مسئلہ کے جواز اور عدم جواز میں علماء کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے،
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اقتضاء الصراط المستقيم (٢/ ٥١) میں کفار کی جانب سے پیش کیے گئے ہدیہ کو قبول کرنا جائز قرار دیا ہے اور اس کے جواز پر انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آثار سے استدلال کیا ہے۔
✺ سب سے پہلا اثر علی رضی اللہ عنہ کا ہے جو دو سند سے مروی ہے:
☜ پہلی سند: امام بیہقی نے السنن الكبرى (٩/ ٣٩٢،
أتي علي رضي الله عنه بهدية النيروز فقال: ما هذه؟ قالوا: يا أمير المؤمنين هذا يوم النيروز،
ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ کو نیروز کی مناسبت سے ہدیہ پیش کیا گیا گیا،
☜ یہ سند منقطع ہے،
☜ دوسری سند: امام بخاری نے "التاريخ الكبير" (٤/ ٢٠١) میں علی بن زید بن جدعان کے طریق سے،
أتي على بفالوذج قال: ما هذا؟ قالوا: اليوم النيروز،
ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ کے پاس فالوذج نامی ڈش (جو گھی اور شہد میں ملا کر بنائی جاتی ہے) لائی گئی،
☜ اس سند میں علی بن زید بن جدعان اور سعر التمیمی ہیں۔
☜ علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
☜ سعر التمیمی کو امام بخاری نے "التاريخ الكبير" (٤/ ٢٠١) میں اور امام ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعديل" (٤/ ٢٠٨) میں ذکر کیا ہے اور کسی بھی قسم کی جرح وتعدیل اس راوی کے باری میں نقل نہیں کی ہے۔
ابن حبان نے اس راوی کو "الثقات" (٤/ ٣٤٥) میں ذکر کیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ یہ سند بھی علی بن زید بن جدعان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اور سعر التمیمی کے سلسلے میں کوئی معتبر توثیق نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
☜ تیسری سند: خطیب بغدادی تاریخ بغداد (١٣/ ٣٢٧) میں مکرم بن احمد بن عبید اللہ کی سند سے روایت کرتے ہیں،
☜ اس سند میں مکرم بن احمد کو چھوڑ کر کچھ ضعیف ہیں اور کچھ مجاہیل ہیں "میزان الاعتدال" (١/ ٢٢٦)،
✺ اس کے بر عکس علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نیروز کے دن کا ہدیہ قبول نہیں کیا کرتے تھے،
أن عليا رضي الله عنه كان لا يقبل هدية النيروز
ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ نیروز کے دن کا ہدیہ قبول نہیں کیا کرتے تھے۔
☜ لیکن یہ اثر بھی ضعیف ہے،
✺ دوسرا اثر ام المؤمنين عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ عنہا کا ہے: چنانچہ ابن ابی شیبہ نے اپنی "مصنف" (٦/ ٤٣٢،
إن لنا آظارا من المجوس،
ترجمہ: ہمارے پاس مجوسیوں کی ایک جماعت رہتی ہے،
☜ اس اثر کی سند ابو قابوس کی وجہ سے ضعیف ہے،
✺ تیسرا اثر ابو برزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ کا ہے: ابن ابی شیبہ نے "مصنف" (٥/ ١٢٦،
أنه له سكان مجوس،
ترجمہ: ابو برزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ کے کچھ مجوسی پڑوسی تھے جو انھیں نیروز کے دن تحفے دیا کرتے تھے،
☜ اس اثر کی سند میں حسن بن الحکیم کی والدہ مجہول ہیں،
محترم قارئین: جن آثار کی بنیاد پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کفار ومشرکین کی عید کے موقع پر ان کی جانب سے دیے گئے تحفے کو قبول کرنے کے جواز پر استدلال کیا ہے،
☜ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے جواز پر تعلیق لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے جواز کا فتوی بہت عجیب ہے،
(شرح اقتضاء الصراط المستقيم ص348- 349)
قارئین کرام: یاد رہے کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے جو محدود دائرے میں جواز کا فتوی دیا ہے وہ آثار صحابہ کے صحیح ہونے کی صورت میں ہے،
خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس قسم کی عید کے موقع پر اگر کسی غیر مسلم نے مسلمانوں کو ایسا تحفہ دیا جو عام دنوں میں دیے جانے والے تحفہ و تحائف سے مختلف ہو،
☜ جو لوگ ہدیہ لینے کے جواز کے قائل ہیں ہیں انھوں نے اس کے لیے متعدد شرطیں رکھی ہیں:
١-مشرکانہ عید کے موقع پر غیر مسلموں کی جانب سے کسی بھی قسم کا ایسا ذبیحہ قبول کرنا جائز نہیں جو بطور خاص عید کے لیے ذبح کیا جائے۔
٢-ہدیہ ان چیزوں پر مشتمل نہ ہو جن کا استعمال وہ عید کے دن کرتے ہوں،
٣-ہدیہ قبول کرنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو عقیدہ ولاء اور براء کی تعلیم دیں تاکہ ان کے دلوں میں ان کے عید اور تیوہار کی محبت نہ گھر کر جائے،
٤-ہدیہ قبول کرنے کا مقصد تالیف قلب ہو اور اسلام کی دعوت دینا ہو،
محترم قارئین: موجودہ دور میں مذکورہ شرائط کی پابندی کے ساتھ کتنے لوگ کرسمَس اور دیوالی وغیرہ کے موقع پر ہدیہ قبول کرتے ہیں؟
مطلب یہ کہ اگر مذکورہ شرائط کی پابندی نہ کی جائے تو ان کے یہاں بھی ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔
✺ ابن النحاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: نصاریٰ کی عید کے موقع پر مسلمانوں کا خورد ونوش،
لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ [المجادلة الآية:٢٢]
آیت کا مفہوم: جو لوگ اللہ رب العالمین اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسے لوگوں سے محبت نہیں کرتے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں،
✺ سعودي فتوى كميٹی سے سوال کیا گیا کہ: اہل کتاب یا مشرکین اپنی اپنی عید کی مناسبت سے جو کھانا تیار کرتے ہیں کیا مسلمان کے لیے اس کا تناول کرنا جائز ہے؟
اسی طرح اس مناسبت سے ان کی جانب سے دیے گئے تحفے تحائف قبول کرنے کا کیا حکم ہے؟
فتوی کمیٹی کا جواب: اہل کتاب یا مشرکین عید کی مناسبت سے جو کھانا تیار کرتے ہیں مسلمان کے لیے اس کا تناول کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس مناسبت سے ان کی جانب سے دیے گئے تحفے تحائف کا قبول کرنا جائز ہے،
اور اس قسم کے تعامل سے دھیرے دھیرے ان کی عیدوں کے موقع پر ان کی مشابہت اختیار کرنے لگتے ہیں،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
ترجمہ: جس نے ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جس کی دلیل موجود نہیں تو وہ باطل ہے۔(فتاویٰ اللجنة الدائمة: ٢٢/ ٣٩٩،
یہ فتویٰ شیخ عبد اللہ قعود،
✺ قارئین کرام: یہ تو یقینی بات ہے کہ تحفے تحائف کے تبادلے سے نفرت وعداوت ختم ہوتی ہے اور محبت وقربت میں اضافہ ہوتا ہے،
ترجمہ: ایک دوسرے کو تحفے تحائف دیا کرو،
اور انس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں سے کہا:
«يا بَنِيَّ،
ترجمہ: ہدیے اور تحفے تحائف کا تبادلہ کیا کرو،
✺ آخری بات:
محترم قارئین: کوئی بھی غیر مسلم اگر ہمیں اپنی عید یا تیوہار کی مناسبت سے کچھ ہدیہ دیتا ہے تو اس کا مقصد عید کی خوشی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔اور ظاہر سی بات ہے کہ ہم ان سے ہدیہ قبول کرکے ان کو خوش کریں گے اور ایسے مشرکانہ عید کے موقع پر انھیں خوشی پہنچانا عقیدہ ولاء اور براء کے بالکل خلاف ہے۔
دوسری بات یہ کہ عید میلاد النبی کے موقع سے،
لیکن جو لوگ کرسمَس اور دیوالی کے موقع پر مشرکین اور یہود ونصاری کے ہدیہ کو قبول کرنے کے جواز کے قائل ہیں وہی حضرات عید میلاد النبی اور پندرہویں شعبان کی بدعات کے موقع ہر مسلمان کی جانب سے پیش کیے گئے ہدیہ کے قبول کرنے کے عدم جواز کے قائل ہیں!
ایک طرف کفار ومشرکین شرکیہ مناسبت سے ہدیہ پیش کریں تو وہ جائز؟
اور دوسری طرف مسلمان بدعی مناسبت سے تحفہ دے تو وہ حرام؟
ہے نا یہ عجیب بات؟
اس لیے کفار ومشرکین کے تیوہار کے موقع پر ان کے تحائف کو قبول کرنے سے گریز کریں اور رب کی خاطر ان کے شرکیہ عید اور اس میں انجام پانے والے امور سے نفرت کریں۔





