ہائے کس بے وفا سے پیار کیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میں نے اپنی بقا سے پیار کیا
ہائے کس بے وفا سے پیار کیا
کس نے دست وفا سے پیار کیا
سب نے رنگ حنا سے پیار کیا
زندگی بھر فریب کھاتا رہا
خوب رو ہر قبا سے پیار کیا
میں نے اپنی انا کو ٹھکرایا
اس نے اپنی انا سے پیار کیا
ضبط کیسے کریں گے پروانے
شمع نے جب ہوا سے پیار کیا
زندگی سے مجھے رہی الفت
زندگی نے قضا سے پیار کیا
میں نے پہنا تھا عشق کا چشمہ
تیری ہر اک ادا سے پیار کیا
عقل سے تو ٹھنی رہی میری
یوں دل مبتلا سے پیار کیا
دیکھتا کون رنگ چہرے کا
سب نے رنگ قبا سے پیار کیا
پیش آیا وہ غیر کی صورت
میں نے جس آشنا سے پیار کیا
کون گزرا ہے صورت مجنوں
دشت نے نقش پا سے پیار کیا
عشق کا جرم ہی کچھ ایسا ہے
ورنہ کس نے سزا سے پیار کیا
سب نے ٹھکرایا مدعا لیکن
لہجہ ریختہ سے پیار کیا
جب خدا کو نہ ہو سکے پیارے
شاد! پھر کیا خدا سے پیار کیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





