دنیا عذاب گاہ دل پائمال ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
معمور درد و غم سے ہر اک ماہ و سال ہے
ہر وقت اب تو بارش حزن و ملال ہے
تم حوصلوں سے شوق کی تعمیر نو کرو
دنیا عذاب گاہ دل پائمال ہے
خانہ بدوش شہر دریدہ لباس ہیں
چہروں پہ ان کے پھر بھی عجب اندمال ہے
ڈھونڈھو تو چشم خویش نگر ایک بھی نہیں
آئینہ دار دیکھو تو ہر خد و خال ہے
سب اپنی اپنی حد انا میں ہیں مطمئن
اب کون اس دیار میں آشفتہ حال ہے
یاں اتنے سانحات و حوادث ہیں دم بدم
جو سانحہ ہے سانحہ ارتحال ہے
خوش تو شب وصال میں ہم ہیں مگر رقیب
کچھ کچھ شب فراق کا بھی احتمال ہے
ہرشخص مصلحت کے تقاضوں کا ہے اسیر
بے وجہ کون شہر میں پرسان حال ہے
وہ ایک شخص رفعت علم و شعور میں
ہمسایہ فلک ہے رفیق ہلال ہے
فائز کتاب زیست کے ہر اقتباس میں
مجروح آگہی ہے شکستہ خیال ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





