جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دل سے اٹھی جو آہ غزل تک پہنچ گئی

کلام: سراج عالم زخمی17 جنوری، 20211,702قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سینے کی آگ راگ محل تک پہنچ گئی
دل سے اٹھی جو آہ غزل تک پہنچ گئی
ذرے کو آفتاب بنا کر اچھال دوں
جرأت تو میری آج زحل تک پہنچ گئی
ہر پیار کے نصیب میں شاہ جہاں کہاں
ممتاز تھی جو تاج محل تک پہنچ گئی
اب زندگی بھی اپنی حدوں میں نہیں رہی
دیکھو تو کیسے کیسے اجل تک پہنچ گئی
ماضی کا ایک عکس مرے آئینے میں ہے
جو بات کل تلک تھی وہ کل تک پہنچ گئی
مجھ کو تو اک انار کلی سے ہوا تھا پیار
اتنی سی بات راج محل تک پہنچ گئی
مجھ کو تو عشق وشق بھی افواہ سی لگے
رخ کی تھی بات اور کنول تک پہنچ گئی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دل سے اٹھی جو آہ غزل تک پہنچ گئی - دی فری لانسر | دی فری لانسر