۱۹۶۵ء میں جامعہ رحمانیہ مدن پورہ بنارس کے ہوسٹل دار الاقامہ (پانڈے حویلی ) میں آتے جاتے میں نے آزاد صاحب کا ذکر خیر سنا اور معلوم ہوا کہ آپ شاعر وادیب ہیں۔آزاد تخلص ہے۔اسی سے شہرت ہے۔ابتدائی ایام میں ہم لوگ آزاد صاحب کی طرح مولانا محمد عابد حسن رحمانی کو بھی عابد صاحب کہتے تھے۔ایک بڑے طالب علم نے تنبیہ کی کہ عابد صاحب نہ کہو،
علامہ نذیر احمدرحمانی املوی [وفات۱۹۶۵ء]جامعہ رحمانیہ کے شیخ الحدیث تھے۔سب انھیں ’’بڑے مولانا‘‘ کہتے تھے۔معلوم ہوا کہ آزاد صاحب محدث عبدالرحمن مبارکپوری اورشیخین: شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری اور شیخ الحدیث نذیر احمد رحمانی املوی کے شاگرد رشید ہیں۔شیخ الحدیث مولانا احمد اللہ پرتاب گڑھی سے بھی انھیں شرف تلمذ حاصل ہے۔
جامعہ رحمانیہ میں عربی جماعت رابعہ تک کے اساتذہ چند ہی تھے۔۶۶ء میں جامعہ سلفیہ میں تعلیم کے افتتاح کے بعد حضرات اساتذہ کرام جامعہ رحمانیہ: آزاد صاحب،
جامعہ سلفیہ کی تاسیس ۱۹۶۳ء میں ہوئی۔اس وقت سے ۱۹۶۸ء تک کے جامعہ کے سارے اشتہارات،
تدریس وافتاء کے فرائض بھی بھرپور انداز سے انجام دیتے۔پریوا سے ہم چار طلبہ:میں،
جامعہ رحمانیہ کے پرانے استاذماسٹر عبدالحمید جونپوری،
ابتدا میں اساتذہ کرام میں مولانا محمد عابد حسن رحمانی اور مولانا عبد الوحید رحمانی نے ہمیں عید الاضحی کی چھٹی تک پڑھایا۔مولانا عبد الحمید رحمانی بھی ۱۹۶۶ء میں رحمانیہ میں ہمارےمدرس تھے۔بعد میں مولانا عبد السلام رحمانی جو الدار القیمۃ بھیونڈی میں تھے،
جامعہ رحمانیہ میں شوال سے ذی الحجہ تک دار الاقامہ میں مقیم بڑی جماعت کے طلبہ سے بزرگ اساتذہ بالخصوص آزاد صاحب کے بارے میں خوب خوب تعریفیں سنتے رہے۔
۱۹۶۸ء میں جامعہ سلفیہ میں داخلہ ملتے ہی آزاد صاحب سے استفادے کے بھرپور مواقع فراہم ہوے۔جامعہ رحمانیہ ہی سے ان مشایخ کرام رحمہم اللہ سے تعارف کی بنا پر ۶۸ء میں جیسے ہی استاذ محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری استاذ کی حیثیت سے جامعہ تشریف لائے،
استاذ محترم آزاد صاحب پان خوری اور چائے نوشی میں مشہور تھے۔عالمیت سال دوم کے طالب علم ہمارے محترم دوست ڈاکٹر عبدالوہاب صدیقی رحمہ اللہ کو آپ سے خصوصی تعلق خاطر تھا۔وہ مولانا کی ٹوٹ کر خدمت کرتے تھے۔چائے پان لانے اور بازار جانے کی خدمات محترم عبد الوہاب صدیقی اور مولانا عبدالرقیب بہاری عموما انجام دیتے تھے۔آزاد صاحب کبھی کبھار مجھ سے بھی چائے منگواتے تھے،
۶۸ء ہی میں ایک دن آفس میں مجھے بلایا گیا تو میں زیادہ جھک کر نظام الاوقات کو پڑھنے لگا۔ایک استاذ نے کہا: لگتا ہے تمھاری نظر کمزور ہے۔میں نے فوراً اسی دن آنکھ چیک کرائی تو پتا چلا کہ اب مجھے عینک لگانی پڑے گی۔واقعی آنکھ کمزور تھی۔
استاذ محترم آزاد رحمانی کا طریقۂ تدریس وتالیف،
ہم لوگوں نے آپ سے حدیث میں صحیح مسلم اور سنن ابی داود،
آزاد صاحب مفتی،
طریقۂ درس وتدریس:
آپ کا طریقہ درس وتدریس بڑا دل نشیں تھا،
تعلیمی وتدریسی لیاقت سے زیادہ اساتذہ کے اخلاقی رویے اورحسن سلوک سے طالب علم متاثر ہوتا ہے۔ا ٓزاد صاحب کے تواضع،
عالمیت کے سالوں میں ہم نے عالم (الہ آباد بورڈ) کا امتحان دیا۔اس کے بعد دوسرے سال منشی فارسی کا۔فارسی ۶۴ء میں مولانا ابوالخیر صاحب رحمانی فاروقی رحمہ اللہ سے گاوں میں تھوڑی سی پڑھی تھی،
فتوی نویسی:
آزاد صاحب کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں فتاوے اس اندازسے تحریر فرماتے تھے کہ آپ کے مسودے ہی کو سائل کے پاس بھیج دیا جاتا تھا اور وہ رجسٹر پر نقل کرلیے جاتے تھے۔
مقالات بہت مفصل اور مدلل لکھتے۔مولانا عامر عثمانی مدیر تجلی کے قلم کی تیزی،
میں صوت الجامعہ عربی کے مقالات کو صاف کرنے اور پروف ریڈنگ کا کام کرتا تھا۔میرے رفیق درس ڈاکٹر عبد الحنان بن لعل محمد آزاد صاحب کے فتاوے رجسٹر پر نقل کرتے تھے۔
آزاد صاحب نے مستقل طور پر تصنیف وتالیف اور ترجمے کا کام نہیں کیا۔درس وتدریس،
استاذ محترم کے مقالات پندرہ روزہ الہدی،
ٍآپ کی پوری جدوجہد علماء کی کھیپ تیار کرنے پر مرکوز تھی۔اللہ تعالی نے اس میں بظاہر برکت بھی دی اور جامعہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ،
آزاد صاحب مطالعے،
استاذ محترم میری ہی طرح پستہ قد اورخوب موٹے تازے تھے۔عموماً صحت اچھی تھی۔بدن درد کرتا تو کبھی کبھی میں بھی ان کا بدن دباتا۔ان کے سر میں تیل لگاتا۔کہتے تھے کہ ذرا زور سے دباو،
آزاد صاحب نے ایک تعطیل کے موقعے پر نماز نبوی پر اپنی ایک کتاب شائع فرمائی۔جب ہم گھر سے جامعہ واپس آئے تو پیلے غلاف کی یہ کتاب جس میں بعض اغلاط کی تصحیح بھی ہاتھ سے کی گئی تھی،
اہل حدیث اور سیاست تالیف علامہ نذیر احمد املوی کی اشاعت آپ کی نگرانی میں ہوئی،
مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللہ عام دیوبندی علماء کی طرح اختلافی مسائل میں مسلکی تعصب کا نہ صرف شکار تھے،
جب تک آپ با حیات رہے مجلہ کے مدیر رہے۔آپ کے رشحات قلم اور دوسرے اساتذہ کرام کے مقالات پر مشتمل اردو مجلے کو ایک بار الہ آباد میں منعقد ایک مسلم پرسنل لا کے آل انڈیا اجلاس میں،
ہفتہ واری ندوۃ الطلبہ کے پروگراموں میں طلبہ کی تقریری وتحریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں آزاد صاحب کی خدمات انتہائی قابل قدر ہیں۔ہر طالب علم کی تقریر یا تحریر کو غور سے سن اور پڑھ کر اس پر تبصرہ فرماتے۔معنی ومضمون کے ساتھ زبان اور اصطلاحات کی غلطیوں کی بھی نشان دہی فرماتے۔
ایک مرتبہ انجمن ندوۃ الطلبہ کے مجلے ’المنار‘ کے مضامین کے بارے میں عرض کیا کہ پہلے بڑی جماعتوں کے طلبہ ان کی اصلاح کردیں،
آزاد صاحب انجمن میں طلبہ کی اغلاط کی نشان دی تفصیل سے کیا کرتے تھے،
ایک بار ایک طالب علم نے تقریر کے دوران ’ساتھیو‘ کا لفظ استعمال کیا تو آپ نے تنبیہ فرمائی کہ یہ لفظ کمیونسٹ استعمال کرتے ہیں،
ایک بار دوران تقریر ایک ساتھی مولانا عبد الرقیب بہاری مرحوم نے امام الائمہ اور امام اعظم وغیرہ کے الفاظ اس انداز سے کہے کہ میں نے محسوس کیا اس میں بعض ائمہ کی کچھ تنقیص ہے۔میری باری آئی تو دوران تقریر میں نے تلخ آمیز لہجے میں اعتراضا چند جملے کہہ دیے تو آزاد صاحب نے اس پر چٹکی لیتے ہوئے تبصرے میں عرض کیا کہ پتا نہیں مولوی عبد الرحمن اس اصطلاح پر اتنے زیادہ کیوں چراغ پا ہوگئے؟ اس کی کیا ضرورت تھی؟بعد میں پتا چلا کہ امام ابن خزیمہ امام الائمہ کے لقب سے مشہور ہیں۔امام ابویوسف اور امام محمد اپنے استاذ امام ابوحنیفہ کو امام اعظم کا لقب دیتے تھے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس مخصوص لقب کو امام ابوحنیفہ کی سارے ائمہ پر فضیلت ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاے۔
فضیلت کے آخری سال انجمن کا انعامی مقابلہ تھا،
استاذ محترم کے طلبہ سے لگاؤ اور ان کی علمی استعداد سے متعلق انجمن ندوۃ الطلبہ کے سن ۱۹۶۹ء کے افتتاحی اجلاس کی رپورٹ میں آپ کے یہ کلمات زریں ملے: ’’استاذ محترم مولانا آزاد صاحب رحمانی نے خاص طور سے طلبہ کی توجہ کو تقریر وتحریر کی طرف مبذول کرایا۔آپ نے فرمایا: عزیز بھائیو! قوموں کے عروج وزوال کا راز تقریر وتحریر کی بے پناہ قوتوں میں مضمرہے۔تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ اگر تقریر وتحریر نے کسی قوم کو اوج ثریا پر پہنچایا تو اس کی زبان وقلم کی کرشمہ سازیوں نے دوسری قوم کو زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک دیا۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے،
آپ نے فرمایا کہ یہی وقت آپ کے سیکھنے کا ہے۔اگر آپ نے اس قیمتی وقت کو ضائع کردیا تو پھر زندگی بھر پچھتانا پڑے گا۔مرکزی دار العلوم میں رہ کر آپ اس بات کی زیادہ سے زیادہ کوشش کیجیے کہ اپنے اندر ہر طرح کی استعداد پیدا کریں تاکہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ کو دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہمارے اکابر نے مرکزی دار العلوم کو اسی مقصد کے لیے قائم کیا ہے کہ یہاں سے اسلام کے ایسے جانباز سپاہی تیار ہوکر دنیا میں پھیلیں جو زبان وقلم کے شہ سوار اور تقریر وتحریر کے بادشاہ ہوں تاکہ اپنی زبان وقلم کی بے پناہ قوتوں سے الحاد ودہریت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کا منہ موڑ دیں اور اشتراکیت وکمیونزم جیسے فساد انگیز اور غلط نظریات کا خاتمہ کردیں۔(اخبار اہل حدیث،
اسی سال جب میں عالمیت سال دوم کا طالب علم تھا تو انجمن کے ایک انعامی تقریری مقابلے میں میں نے بھی شرکت کی تھی۔موضوع ’علامہ ابن تیمیہ اور ان کے تجدیدی کارنامے‘ تھا۔اس اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ مولانا عبد الوحید صاحب نے فرمائی اور حکم کی حیثیت سے مولانا محمد ادریس صاحب آزاد رحمانی،
تیسیر العزیز الحمید کا ترجمہ:
توحید باری تعالی پر شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی مختصر سی کتاب اپنی جامعیت وافادیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔اس کی بہت ساری چھوٹی بڑی شروح ہیں،
آج پھر ضرورت ہے کہ اس عظیم دینی خدمت کو نئے انداز سے شائع کیا جائے،
آزاد صاحب کا جامعہ سلفیہ کی تعمیر وترقی سے والہانہ تعلق تھا۔پچھم کی طرف جہاں اس وقت جامعہ کی مسجد ہے،
جامعہ میں کبھی کبھار طلبہ شعر وشاعری کے لیے طرحی مشاعرے کا انعقاد کرتے۔آزاد صاحب ان پروگراموں میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے بل کہ اس کو کامیاب بنانے کی بھی پوری کوشش کرتے تھے۔
جامعہ میں تعطیل کے مواسم اور آزاد صاحب کا سفر املو:
املو (اعظم گڑھ) بنارس سے ڈیڑھ سو کلو میٹرکے فاصلے پر واقع مشہور قصبہ آپ کا گاؤں ہے۔یہی مولانا نذیر احمد املوی کا مسکن تھا۔مبارکپور سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر یہ مشہور بستی ہے جہاں اہل حدیث کثیر تعداد میں آباد ہیں۔جب بھی تعطیل کا وقت قریب آتا،
آپ ایک بار پریوا کے ایک اجلاس عام میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے۔مجھے معلوم ہوا کہ آزاد صاحب جلسے میں شریک تھے۔لیکن تفصیل نہیں معلوم تھی۔سالانہ تعطیل کے موقعے پر جب میں گاؤں آیا تو دیکھا کہ ہمارے گاؤں میں،
آزاد صاحب کے حدیث عقیقہ کی شرح وتفسیر کا مقصد اس سنت موکدہ کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔اسی سلسلے میں ا مام احمدکا یہ قول نقل کیا۔بچہ والدین کی شفاعت نہ کرے گا۔اس جملے نے لوگوں کے کان کھڑے کردیے اور عورتوں نے اس سلسلے میں زیادہ چھان بین کی۔
عقیقہ سنت موکدہ ہے۔سمرہ کی حدیث مسند احمد اور سنن ابی داود،
آزاد صاحب سے تعلقات کی کچھ مثالیں
۷؍جون ۱۹۷۳ء میں میری شادی کی تقریب تھی۔میں نے آزاد صاحب کو خط لکھ کر دعوت دی تو شادی کی تہنیت پر پوسٹ کارڈ ارسال فرمایا۔ایک جملہ یاد ہے کہ شادی کے ہنگامے سے فارغ ہوکر اب آپ تکان اتار رہے ہوں گے۔
مولانا کے بڑے صاحبزادے عبدالواحد دوران تعلیم ہم لوگوں سے بڑے مانوس تھے۔آزاد صاحب سے میرے گہرے تعلق کا بھی انھیں اندازہ تھا۔والد صاحب کے انتقال کے بہت بعد ایک دن وہ پریوا تشریف لائے۔ساتھ میں وہ خط بھی تھا جس میں میں نے آزاد صاحب سے گزارش کی تھی کہ وہ تیسیر العزیز الحمید کا اردو میں ترجمہ کریں۔عزیز گرامی عبد الواحد نے اپنی معاشی پریشانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ کا یہ خط والد صاحب کے اوراق میں ملا تو میں نے سوچا کہ آپ سے ملاقات کروں۔اس سلسلے میں آپ سے مشورہ کروں اور عرض کیا کہ میرے لڑکے عبدالحسیب نے حفظ قرآن کے ساتھ مولوی کا کورس بھی مکمل کیا ہے۔اس کو سعودی عرب میں کوئی جگہ دلا دیجیے۔اللہ تعالی کو منظور ہوا تو میرے لیے رزق میں آسانی ہوجائے گی ان شاء اللہ۔میں نے فوراً ہامی بھرلی اور عرض کیا کہ فی الحال آپ انھیں میرے یہاں مدرسے میں بھیج دیں۔یہاں رہ کر کچھ پڑھیں لکھیں۔خاص کر حفظ قرآن کو پختہ کریں اور تجوید وقرأت کی تعلیم حاصل کرلیں۔عزیزم عبد الحسیب آئے۔ایک مدت یہاں پر قیام کیا،
مذکور بالا مشاہیر علماء کے علاوہ بھی اساتذہ ہیں۔لیکن ان کا تذکرہ اس وقت میرے موضوع سے باہر ہے۔اسی طرح سے آپ کے شاگردوں کی تعداد کا معاملہ ہے۔جامعہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ،
رحمانی فضلاء میں دینی علوم وفنون اور درس وتدریس،
مؤلفات:
استاذ محترم ( ۱۹۱۶ء-۱۹۷۸ء) کی تصنیفی خدمات سے متعلق ہمارے پاس معجم اعلام الہند میں درج ذیل معلومات ہیں:
۱۔عصمۃ الانبیاء ابن حزم کی الملل والنحل سے ایک طویل فصل کا اردو ترجمہ (مخطوط)
۲۔صلاۃ النبی ﷺ صفات ۵۶،
۳۔انتقاد صحیح بجواب ذیل رکعات تراویح،
۴۔تاریخ مرکزی دار العلوم،
۵۔خطبۂ استقبالیہ (اہل حدیث کانفرنس املو،
۶۔ترجمہ تیسیر العزیز الحمید شرح کتاب التوحید (نصف اول) عدد صفحات۵۴۸،
۷۔سیرت محمد ﷺ (مخطوط)
۸۔ابوبکر وعلی رضی اللہ عنہما کی سیرت ایک جائزہ،
۹۔آیات بینات: صفحات ۴۴،
۱۰۔جواب الجواب للآیات البینات (قلمی) اس میں قبر پرستوں کے آیات بینات پر اعتراضات کے جوابات ہیں۔
۱۱۔فتاوی رحمانی (دار الافتاء جامعہ سلفیہ میں موجود ہیں)
آزاد صاحب کی زندگی کے کئی مراحل ہیں۔
۱۔پیدائش اور نشو ونما سے لے کر دار الحدیث میں داخلے تک
۲۔دار الحدیث کے ایام تعلیم وتربیت
۳۔جامعہ احمد سلفیہ میں تدریسی فرائض اور جامعہ کے آرگنـ الہدی کی ایڈیٹری۔
۴۔جامعہ رحمانیہ کے تدریسی ایام
۵۔جامعہ سلفیہ کی تاسیس سے وفات تک کی خدمات۔
عموما میری گذارشات کا تعلق آخری چوتھے اور پانچویں فقرے سے ہے۔کاش کہ خودمولانا کی زبانی ان کے حالات سن کر قلم بند کرلیے ہوتے۔لیکن اب تو ان کے اور دوسرے اساتذہ کرام کے حالات پر کچھ لکھتے یہ شعر نوک قلم آجاتا ہے؎
ہم آج بیٹھے ہیں ترتیب دینے دفتر کو
ورق جب اس کا اڑا لے چلی ہوا اک اک
استاذ محترم رحمہ اللہ کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔افسوس کہ مدت مدید سے خواہش کے باوجود جمع خاطر نہ ہو پایا کہ آپ کی سیرت وخدمات سے متعلق اپنے تاثرات قلم بند کر سکوں،
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
مسلک سے لگاو،
طب کی تعلیم:
استاذ محترم آزاد رحمہ اللہ نے دہلی کی اقامت اور اس کے علمی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فراغت کے بعدطب کی تعلیم مکمل فرمائی۔مستقل علاج معالجے سے تو نہیں جڑے۔لیکن کچھ نہ کچھ تعلق رہا۔یاد آتا ہے کہ ایک بار لال تیل تیار کیا۔اگر حافظہ خطا نہ کر رہا ہو تو اس کا نام فقیری تیل رکھاتھا۔ہمارے ہم سبق مولانا عبد الجبار ضیغم ناگپوری رحمہ اللہ کو بعض امراض لاحق تھے۔آزاد صاحب نے ان کے لیے جو نسخہ تجویز کیا تھا وہ مزاج کے موافق نہ ہوا،
مولانا محدث عبد الرحمن مبارکپوری مشہور جراح تھے۔اسی پیشے سے جڑے رہے اور فراغت سے سلفی دعوت اور حدیث کی خدمت کی۔ہمارے گاوں کے مولانا عبد الستاررحمہ اللہ دہلی میں مدرسہ عزیزیہ کے فارغ تھے۔طب کی تکمیل بھی انھوں نے کی اور گاوں میں ایک چھوٹی دکان مع مختصر سے طبی عمل سے گزارہ کرتے رہے اور دعوت وتبلیغ بالخصوص جمعہ پڑھانے کا کام بڑے شوق سے کرتے رہے۔
گاوں ہی کے دوسرے فاضل مولانا حکیم محمد اکبر فاروقی رحمانی نے بھی تکمیل الطب کا کورس پورا کیا۔علمی اور تدریسی میدان میں نہ رہے۔دہرہ دون میں طب یونانی کے ہسپتال میں ملازمت کی۔چند سال پہلے انتقال ہوا۔رحمہ اللہ۔
حکیم ضیاء الدین ضیاء(مئوآئمہ،
مولاناحکیم عبیداللہ رحمانی بن مولانا عبدالرحمن ڈوکموی (راے بریلی) سعیدیہ،
دہلی اور لاہور جیسے علم وحکمت کے مراکز میں تعلیم حاصل کرنے والے دینی مدارس کے طلبہ کی ایک اچھی تعداد نےاس زمانے کے رواج کے مطابق دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ یا بعد میں طب یونانی کا کورس بھی پوراکیا۔حصول رزق کے لیے طب کا پیشہ تیر بہدف نسخہ ہے قبل اس کے کہ طبیب سے مریض کو فائدہ ہو۔
ماضی میں ہمارے اکابر علوم شریعت کے ساتھ طب سے بھی تعلق رکھتے تھے۔دارالحدیث رحمانیہ،
آزاد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے طبیب القلوب والاذہان بنایاتھا۔آپ نے عملی طور پر پوری زندگی علم ودعوت کی آبیاری میں گزاری اور آپ سے مستفیدین ہندستان اور اس سے باہر دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر اجر وثواب کی بارش برسائے اور جنت الفردوس میں آپ کو اعلیٰ مقام دے۔
آزاد صاحب مرنجاں مرنج آدمی تھے۔استاذ محترم مولانا عبد الوحید صاحب سے ان کی دوستی اور تعلق خاطر ضرب المثل اور قابل تقلید وستائش تھا۔ہم نے دونوں کو پوری زندگی ہم پیالہ وہم نوالہ دیکھا۔ایک بار ایسا ہوا کہ کسی بات پر شیخ الجامعہ اور آزاد صاحب میں ناچاقی ہوگئی۔وہ منظر بھی بڑا عجب تھا۔آزاد صاحب کی بے چینی قابل دید تھی۔تین دن کے اندر اندر پھر مجمع البحرین ہو گیا۔اللہ اللہ خیر صلا۔
آزاد صاحب کی ایک بڑی پیاری عادت تھی۔بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ بھی تربیت کا ایک انداز تھا۔جب حدیث کی کوئی کتاب ختم ہوتی تو مطالبہ کرتے کہ تم لوگ پارٹی کرو۔ہم لوگ خوب شوق سے آپس میں چندہ اکٹھا کرتےاور جشن مناتے۔ہمارے اساتذہ کرام پارٹی کے دن خوش خوش تشریف لاتے۔مسرت کے ماحول میں ہم طلبہ کے ساتھ مٹھائی اور نمکین پھر چائے پان سے لطف اندوز ہوتے اور دعاوں کے ساتھ رخصت ہوتے۔
اساتذہ اور طلبہ کا یہ اجتماع در اصل محدثین کے یہاں اپنے اصحاب کے ساتھ جو تعلق خاطر رہتا تھا کی ایک تصویر تھا۔یہ عادت اور سلیقہ بھی سکھانا تھا کہ ہم آپس میں مل جل کر بعد میں بھی اسی طرح پیار ومحبت سے رہیں۔
جامع صفات:
آزاد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جامع صفات بنایا تھا۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ایک مدرس صرف اپنے فن میں مہارت رکھتا ہے۔دوسرے علوم وفنون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ زندگی کے ہنگاموں سے دور ہوتا ہے۔انتظامی امور سے بالکل الگ ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم اور رحمت ومہربانی سے ایسی شخصیات بھی پیدا فرماتا ہے،
فرائض:
آزاد صاحب یقینا جامع المعقولات والمنقولات تھے۔علم الفرائض کو بڑا ہم اور مشکل علم مانا گیا ہے۔اس کے ماہرین کم ہی پائے جاتے ہیں۔آزاد صاحب اس فن میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔جامعہ میں فرائض میں السراجی آپ ہی پڑھاتے تھے۔
علوم حدیث:
علوم حدیث یعنی مصطلح حدیث،
حنفی فقہ اور تقابلی مطالعہ:
بر صغیر کے مسلمانوں کی فقہی فروع میں اکثریت حنفی مسلک والوں کی ہے۔وہ امام ابو حنیفہ اور ان کے نام سے منسوب فقہ ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔اس فن میں مہارت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔آزاد صاحب کو حنفی فقہ واصول فقہ میں مہارت تامہ حاصل تھی۔آپ فقہی مسائل کی تشریح اور صحیح حدیث کے مخالف مسائل کو بڑی خوش اسلوبی سے بیان فرماتے اور محقق فن کی حیثیت سے کلام فرماتے تھے۔آپ کے تلامذہ ومستفیدین آپ کی اس مہارت کے شاہد ہیں۔ا ٓپ کی تحریریں بھی اس کی شاہد عدل ہیں۔
منطق وفلسفہ:
منطق وفلسفہ کی کتابیں آپ نہیں پڑھاتے تھے،
ادیان ومذاہب:
ادیان ومذاہب کا مطالعہ بھی ہمارے علماء کے یہاں دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔استاذ محترم اہل حدیث علماء کی طرح احقاق حق کے مقصد سے اسلامی فرقوں کے عقائد وآراء کے ساتھ غیر اسلامی مذاہب کا مطالعہ بھی کرتے تھے،
عربی اور اردو زبان وادب اور شعر وشاعری:
آزاد صاحب کا تعارف ان کے تخلص سے عام تھا۔دہلی میں دوران اقامت داغ کے شاگرد ساحل سے اصلاح لیتے تھے۔آپ ایک پختہ شاعر تھے۔رحمانیہ دہلی کے سخت قوانین کے باوجود کسی نہ کسی طرح دہلی کے مشاعروں میں بھی شرکت فرما لیتے تھے۔جامعہ کے طلباء کے اشعار وقصائد کی تصحیح کا کام بھی کرتے تھے۔شاعر چاہے اردو کا ہو یا عربی کا یا کسی اور زبان کا،
اردو شاعری میں تو آپ نے بہت ساری حمد ونعت،
(۱)اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم
چرخ ہدایت کے مہ و انجم رضی اللہ تعالی عنہم
جن کے نقش قدم پر ہم تم رضی اللہ تعالی عنہم
باعث رونق دین محمدوجہ بہار ملت احمد
گلشن دیں میں ان سے تبسم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
خم کدۂ ایمان کے ساقی ان سے حق کی آن ہے باقی
بادۂ دین و عرفاں کے خم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
پاکے نبی کا ایک اشارہ دار پہ چڑھ جانا ہے گوارا
دین خدا کا ان سے تحکم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
اپنی حیات پاک میں ہر دم راتوں کو با دیدۂ پر نم
رہتے طاعت خالق میں گم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
سوز یقیں سے دل میں حرارت ختم کیا باطل کی شرارت
پیش نظر تھا حق کا تقدم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
حامی حق اسلام کے غازی عربی عجمی اور حجازی
غیر کی خاطر موج تلاطم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
ان سے ملی ہے دولت ایماں آزادؔ وہ ہیں لطف کے ساماں
آو کہیں ان کے لیے ہم تم رضی اللہ تعالیٰ عنہم
(۲)میرے جوانو! بڑھو
خیال دار ورسن کیا ہے مسکرا کے بڑھو
سوئے حیات بڑھو! زندگی لٹا کے بڑھو
فلک کو پھر سے تمھارا ہے امتحاں مقصود
خوشی سے خنجرقاتل گلے لگا کے بڑھو
جہاں ہے تنگ کہ تم عاشق محمد ہو
ہزار حیف ہے طوفاں کی طرح چھا کے بڑھو
تمھاری غیرت حق اور دب کے رہ جائے
غرور و نخوت باطل مٹا مٹا کے بڑھو
لگے ہیں گھات میں ایمان و دین کے رہزن
کمال بازوئے حیدر انھیں دکھا کے بڑھو
بھڑک رہا ہے جہاں میں شراربو لہبی
مرے عزیز جوانو! اسے بجھا کے بڑھو
عطا ہوا ہے جو نور چراغ مصطفوی
اٹھو دلوں کو ذرا اس سے جگمگا کے بڑھو
صنم کدوں کو براہیم کی ضرورت ہے
تبر اٹھاو،
غم حیات سے آزادؔ کیوں ہو آزردہ
خدا کے لطف کو اب مہرباں بنا کے بڑھو
[المنار،
(۳)آہ سیف الملۃ والدین
(مولانا محمد ابو القاسم سيف بنارسی كی رحلت پر)
آزاد رحمانی مبارکپوری
خزاں نے لوٹ لیا آج گلستاں سارا
ہے پتی پتی بنی جیسے ایک انگارا
بنا ہے درد مجسم ہر ایک دل یارب
فغاں کے ضبط کا باقی نہیں ہے اب یارا
ابھی تو ظلمت عصیاں جہاں میں باقی ہے
غروب ہوگیا ملت کا آج کیوں تارا
غضب ہے اٹھ گئے دنیا سے سیف بوالقاسم
چلاے گا سر بدعت پہ کون اب آرا
کہاں سے آے گی آواز قال قال رسول
زبان سیف کھلے گی نہ پھر جو دوبارا
کریں گے دین پہ حملے جو دشمنان رسول
فمن یقوم لدین النبی انصارا
غضب ہے بجھ گئی شمع شریعت روشن
بہے گا کیسے زمانے میں نور کا دھارا
جہاں میں عاشق ذکر نبی تھے بو القاسم
نصیب ہو انھیں جنت کا خوب نظارا
جناں میں جا کے رہیں خلد ہو مقام ان کا
وہاں بھی اوج پہ ان کی قسمت کا ہو تارا
رہے ہیں سیف کے دنیا میں جو عقیدت مند
انھیں ہو میرے خدا غم کے ضبط کا یارا
دعا ہے آج یہ آزاد کی خدا تجھ سے
کہ کر عطا توکوئی سیف دیں دوبارا
[نور توحید لکھنو: مولانا سیف بنارسی نمبر،
ترجمہ کے فن میں بھی آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔ابن حزم کی الملل والنحل اور تیسیر العزیز الحمید آپ کے فن ترجمے پر قدرت کی شاہد عدل ہیں۔
اسلامی تاریخ:
سیرت نبوی،
عقیدہ:
صحیح اسلامی عقیدے کا موضوع مسلک اہل حدیث کے عاملین کا بہترین موضوع رہا ہے۔آزاد صاحب نے ایسے اساطین فن کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیے تھے،
تمام علمی خوبیوں کے باوصف آزاد صاحب دو موقر علمی جرائد کے ایڈیٹر بھی رہے۔دربھنگہ میں جامعہ احمدیہ سلفیہ کے آرگن پندرہ روزہ الہدی اور جامعہ سلفیہ بنارس کے آرگن محدث (صوت الجامعہ) آپ کی صحافتی خدمات،
خطابت:
آزاد صاحب کی خطابت مولانا ابو الکلام آزاد والی گھن گرج اور آہنگ والی خطابت نہ تھی۔علمی اور دعوتی مسائل کی شرح کے لیے علمی اسلوب کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ مدلل خطابت کے قائل تھے۔آپ کا خطاب عام فہم ہوتا،
انتظامی صلاحیت:
پہلے گزرا کہ آزاد صاحب جامعہ سلفیہ کی تاسیس ۱۹۶۳ء سے تا حیات ۱۹۷۸ء جامعہ کے انتظامی امور سے جڑے رہے۔بلکہ اپنے بڑے اور بزرگوں کی طرح آپ کا بھی شمار جامعہ کے بانیوں میں سے ہے۔بلکہ عملی اعتبار سے اس مہم میں سب سے آگے تھے۔جامعہ کے تعارف میں شائع ہونے والے سارے پمفلٹ،
امتحان سے قبل پرچوں کی تیاری،
دراصل آزاد صاحب صرف کسی ایک فن کے مدرس نہ تھے،
میری خواہش یہ تھی کہ اگر آپ کی کوئی کتاب سامنے ہوتی یا فتاوے ہوتے تو ان کے نمونے قارئین کرام کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا۔
سیاسی بصیرت:
ہندستان وپاکستان کے باشندوں کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات سے متعلق معلومات جاننے اور ان کے باشندوں کے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ لوگ پریشان رہتے ہیں۔شیخ مجیب الرحمن نے جب پاکستان سے الگ ہوکر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کا نعرہ لگایا۔تحریک اپنے ابتدائی مرحلے میں تھی تو میں نے ایک دن استاذ محترم سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے خیال میں مجیب الرحمن کا خواب پورا ہوگا اور پاکستان سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن جائے گا۔فوراً فرمایا: جی اس کی تحریک کامیاب ہوجائے گی۔بنگلہ دیش بننا نوشتہ دیوار ہے۔استاذ محترم کی سیاست بصیرت کی داد دینی پڑے گی کہ بالکل شروع ہی میں اندازہ لگا لیا تھا کہ اب تقسیم در تقسیم ہونی ہے۔وللہ الامر من قبل ومن بعد۔
میرے سامنے اس وقت استاذ رحمہ اللہ سے متعلق کسی شاگردیا کسی عالم دین کی تحریر نہیں ہے کہ اس سے اس مقالے میں استفادہ کرتا۔یہ مقالہ بہت پہلے لکھ چکا تھا۔ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے اپنے اساتذہ کرام کے ذکر میں آزاد صاحب کا تذکرہ بڑے اچھے انداز میں فرمایا ہے،
حضرت مولانا محمدادریس آزادرحمانی رحمہ اللہ نے حدیث میں ہمیں سنن ابی داود اور فقہ حنفی کی مشہور زمانہ کتاب ’الہدایہ‘ پڑھائی۔آپ بہت ہی مشفق اورنرم دل انسان تھے۔دار العلوم احمدیہ سلفیہ سے شائع ہونے والے ’مجلہ الہدیٰ‘ کے بہت سالوں تک چیف ایڈیٹررہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تحریرکا بہت اعلیٰ ملکہ عطافرمایاتھا۔الہدایہ پڑھاتے ہوئے بارہا اُن سے الجھ جاتا اورپوچھتاکہ حضرت یہ تومسلک حنفی کی فقہی کتاب ہے،





