جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کل من علیہا فان

کلام: شمیم عرفانی21 جنوری، 20211,296قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پیام سر بہ مہر، کل من علیہا فان
نظام شمس و قمر، كل من عليہا فان
صدائے قلب و نظر، کل من علیہا فان
فضائے شام و سحر، کل من علیہا فان
یہ کائنات تباہی کی زد میں ہے لوگو!
زوال اس کا ضرر، کل من علیہا فان
یہ رنگ و نور، یہ نکہت یہ چاندنی راتیں
ہر ایک محو سفر، کل من علیہا فان
یہ مہر و ماہ، یہ گردوں، یہ رونقیں ساری
سبھی ہیں خاک بہ سر، کل من علیہا فان
یہ کاروبار سیاست، یہ دولت دنیا
متاع لعل و گہر، کل من علیہا فان
نہ کر غرور متاع حیات پہ ناداں!
ہے سب کی راہ گذر، کل من علیہا فان
کوئی نبی ہو ولی ہو کہ ہو قطب ابدال
ہو کوئی جن و بشر، کل من علیہا فان
پری جمال ہو کالا کہ ہو امیر و غریب
ہے سب کو ایک خطر، کل من علیہا فان
کسے یہ تاب کہ دامن بچا سکے اس سے
ہر ایک زیر اثر، کل من علیہا فان
اسی کی ذات کو تنہا دوام ہے حاصل
ہے جس کا حکم سفر، کل من علیہا فان
وہی ہے قادر مطلق، وہی خدائے کل
سب اس کے دست نگر، کل من علیہا فان
ہر اک بشر کا وہاں ایک ہی ٹھکانہ ہے
بہشت یا کہ سقر، کل من علیہا فان
محل سرا ہو یا ایواں کہ جھونپڑا کوئی
بچے گا کوئی نہ گھر، کل من علیہا فان
شمیم! سوچ ذرا، کل کا حال زار، ابھی
نہیں ہے جس سے مفر، كل من عليہا فان
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کل من علیہا فان - دی فری لانسر | دی فری لانسر