آدمی جیسی زندگی گزارتا ہے اس کے جنازہ میں ویسے ہی لوگوں کی شرکت ہوتی ہے۔
ابھی پچھلے دنوں ایک جنازہ پڑھانا ہوا،
لوگوں نے بہت ساری باتیں بتائیں تاہم ان میں سے کوئی بات ایسی نہ لگی جو اس غیر متوقع جم غفیر کی شرکت کی وجہ لگے۔
پھر ایک پہلو سامنے آیا اور وہ یہ تھا کہ یہ شخص اپنے آپ میں چاہے کچھ نہ ہو مگر بستی میں جب کبھی کسی کمزور پر ظلم ہوتے دیکھتا تو اس مظلوم کی تائید میں ظالم کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا،
اس بات کی بھی کوئی پروا نہ کرتا کہ ظالم کون ہے اور کس قدر اثر و رسوخ والا ہے،
غیب تو اللہ جانے مگر اس بات کو سن کر یہی لگا کہ شاید یہی وہ خوبی تھی جس کا بدلہ اللہ نے یوں دیا کہ جب اس کی اپنی ضرورت تھی جس کے لیے وہ کسی کو آواز نہیں دے سکتا تھا،
امام احمد بن حنبل کا قول ہے:
قولوا لأهلِ البدعِ: بيننا وبينكم يومُ الجنائزِ (رواه الدارقطني بإسناد صحيح) اہل بدعت سے کہہ دو کہ ہمارے تمھارے درمیان جنازہ کا دن فیصلہ کرے گا۔
یعنی سماج جب خیر پر ہو تو اہل شر کے زندگی بھر کے تام جھام کے باوجود ان کے جنازے اہل خیر کی "شرکت" سے محروم ہوتے ہیں اس کے برخلاف اہل خیر کے جنازے "آباد" ہوتے ہیں۔
صحیحین کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے حق میں لوگوں کی گواہی کو حسنِ خاتمہ یا سوئے خاتمہ کی علامت قرار دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ (رواه البخاری:١٣٦٧،
اس دن اس حقیقت پر یقین مزید مضبوط ہوا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔
اس دن اس آیت پر ایمان مزید تازہ ہوا کہ:
وَٱصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا یُضِیعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِینَ (سورة الهود:١١٥) اور (نیکی کی راہ پر) جمے رہو اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
غفر الله له وأسكنه فسيح جناته. آمين





