جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

نیکی ضائع نہیں جاتی

تحریر: حافظ عبدالحسیب عمری مدنی23 جنوری، 20211,328قارئین4 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

آدمی جیسی زندگی گزارتا ہے اس کے جنازہ میں ویسے ہی لوگوں کی شرکت ہوتی ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ایک جنازہ پڑھانا ہوا،وفات پانے والا بستی کا ایک عام انسان تھا،دولت،عہدہ،خاندانی عظمت وشہرت،علم و فضل اور تقوی و طہارت،ان میں سے کسی حوالے سے وہ معروف نہیں تھا مگر دیکھا یہ کہ اس شخص کے جنازے میں بستی کے عزت دار اور دیندار لوگوں کی اچھی خاصی تعداد شریک تھی،اس غیر متوقع منظر کو دیکھ کر تجسس بڑھا تو اس شخص سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

لوگوں نے بہت ساری باتیں بتائیں تاہم ان میں سے کوئی بات ایسی نہ لگی جو اس غیر متوقع جم غفیر کی شرکت کی وجہ لگے۔

پھر ایک پہلو سامنے آیا اور وہ یہ تھا کہ یہ شخص اپنے آپ میں چاہے کچھ نہ ہو مگر بستی میں جب کبھی کسی کمزور پر ظلم ہوتے دیکھتا تو اس مظلوم کی تائید میں ظالم کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا،چاہےاس مظلوم سے اس کی کوئی شناسائی ہو کہ نہ ہو۔

اس بات کی بھی کوئی پروا نہ کرتا کہ ظالم کون ہے اور کس قدر اثر و رسوخ والا ہے،اسی حوالے سے سماج کے کئی "بڑے لوگوں" سے ٹکرا چکا تھا اور اسی حوالے سے کسی قدر "بدنام" بھی تھا۔

غیب تو اللہ جانے مگر اس بات کو سن کر یہی لگا کہ شاید یہی وہ خوبی تھی جس کا بدلہ اللہ نے یوں دیا کہ جب اس کی اپنی ضرورت تھی جس کے لیے وہ کسی کو آواز نہیں دے سکتا تھا،بے بس تھا،اس وقت اللہ نے اس کی مدد کا انتظام فرمایا،وہ مظلوموں کا دادرس تھا اللہ نے اس کے جنازے میں بستی کے اہل خیر کی ایک بڑی تعداد کو اکٹھا کردیا جو اس کے لیے اللہ سے مغفرت کے طلب گار ہوں۔

امام احمد بن حنبل کا قول ہے:

قولوا لأهلِ البدعِ: بيننا وبينكم يومُ الجنائزِ (رواه الدارقطني بإسناد صحيح) اہل بدعت سے کہہ دو کہ ہمارے تمھارے درمیان جنازہ کا دن فیصلہ کرے گا۔

یعنی سماج جب خیر پر ہو تو اہل شر کے زندگی بھر کے تام جھام کے باوجود ان کے جنازے اہل خیر کی "شرکت" سے محروم ہوتے ہیں اس کے برخلاف اہل خیر کے جنازے "آباد" ہوتے ہیں۔

صحیحین کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے حق میں لوگوں کی گواہی کو حسنِ خاتمہ یا سوئے خاتمہ کی علامت قرار دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ (رواه البخاری:١٣٦٧،مسلم:٩٤٩) تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

اس دن اس حقیقت پر یقین مزید مضبوط ہوا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔

اس دن اس آیت پر ایمان مزید تازہ ہوا کہ:

وَٱصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا یُضِیعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِینَ (سورة الهود:١١٥) اور (نیکی کی راہ پر) جمے رہو اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

غفر الله له وأسكنه فسيح جناته. آمين

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (4)

م
مطرف بن خالد
23 جنوری، 2021
فاطر السموات والارض انت وليي في الدنيا والآخرة، توفني مسلما والحقني بالصالحين
ا
ابوطلحة بن محمد جاند باشا
23 جنوری، 2021
فائدة لطيفة
S
SAH
23 جنوری، 2021
اللہ ہمارے نیکیوں کو ضائع ہونے سے بچا لے. اللہ تعالیٰ راقم تحریر شیخ کے علم وصحت میں خیر وبرکت عطا فرمائے آمین.
آ
آدري عمر فاروق عمرى
23 جنوری، 2021
اللهم آمين يارب العالمين ادخله في جناتك النعيم

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

نیکی ضائع نہیں جاتی - دی فری لانسر | دی فری لانسر