جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

گرتی ہوئی دیوار سنبھالی نہیں جاتی

کلام: عبدالکریم شاد25 جنوری، 20211,927قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہونی تو کسی طرح بھی ٹالی نہیں جاتی
گرتی ہوئی دیوار سنبھالی نہیں جاتی
یہ عمر جوانی تو سنورنے کے لیے ہے
آئینے کی اک بات بھی ٹالی نہیں جاتی
اوپر کی طرف رخ ہو تو تھوکا نہیں جاتا
عزت کسی مفلس کی اچھالی نہیں جاتی
بار غم دوراں سے ہوا جاتا ہے بوجھل
اب دل سے تری یاد سنبھالی نہیں جاتی
ہم پاؤں بڑھانے کے لیے رہتے ہیں تیار
اور ان سے کوئی راہ نکالی نہیں جاتی
حالات نے سمجھانے کی کوشش تو بہت کی
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
جینے کی تمنا ہے نہ مرنے کی ہی خواہش
بیمار ہوں ایسا کہ دوا لی نہیں جاتی
صد حیف! کہ جس در کے سوالی ہیں نظارے
اس در کی طرف چشمِ سوالی نہیں جاتی
میں خود کو سمجھتا تھا عبث ہی بڑا شاعر
اشعار میں صورت تری ڈھالی نہیں جاتی
اب تاج محل بننے پہ آتا ہے تعجب
جب عشق کی بنیاد ہی ڈالی نہیں جاتی
شاید مجھے قائل نہیں کر پاتی مری عقل
دل کی تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
ہم زخم چھپائیں کہ سنیں وعظ و نصیحت
خنجر سے کوئی بات بھی خالی نہیں جاتی
خود ہی گلے پڑ جاتی ہے اے شاد! محبت
یہ ایسی مصیبت ہے جو پالی نہیں جاتی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

گرتی ہوئی دیوار سنبھالی نہیں جاتی - دی فری لانسر | دی فری لانسر