جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

صفی رائچوری رحمہ اللہ

تحریر: عبدالرحیم محمد یونس بنارسی26 جنوری، 20212,145قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

آج(۲۵؍جنوری۲۰۲۱) جب یہ خبر ملی کہ صفی مدنی صاحب کا انتقال ہوگیا تو ذہن میں بچپن کی یادیں گھوم گئیں۔ماہ وسال تو یاد نہیں البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ اپنی ہمشیرہ کی نسبت کے تعلق سے بنارس سے بذریعہ ٹرین وایا مدراس شہر گلزار بنگلور کا سفر تھا۔حصول معاش کی خاطر ہندوستان میں شہر بنارس کے بعد اہالیان بنارس کا سب سے بڑا حلقہ بنگلور میں آباد ہے۔والدین،ہم دو بھائی اور ایک بہن کے ساتھ فضیلۃ الشیخ استاد محترم سعید میسور مدنی (مدیر ھيئۃ الاختبار بالجامعۃ السلفیہ)حفظہ اللہ بھی ہم رکاب تھے۔

بنگلور سے ہماری واپسی حیدرآباد کے راستے طے تھی اور اسی بہانہ مرحوم سے پہلی بار روبرو ہوئے۔

اللہ غریق رحمت فرمائے،دکن پہنچے تو ہمارے لیے رائچوری صاحب نے سرخ قالین بچھا دی۔(رائچور کو خیر باد تو کب کا کہہ چکے تھے لیکن علمی حلقوں میں ’رائچوری صاحب‘سے ہی شہرت تھی)میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،شہر کے تاریخی مقامات کی سیر و تفریح کا بھی بہت عمدہ نظم فرما دیا۔آج بھی حیدرآباد کا تاریخی میوزیم اور یاد گار گھڑی حافظے کا حصہ ہیں۔

والد محترم اور استاد محترم سعید میسور حفظہما اللہ کا خصوصی تعلق تو تھا ہی تاہم یہ خوش خلقی آپ کی فطرت میں شامل تھی۔اس قدر ذرہ نوازی کہ ہم سب شرمندہ ہوگئے۔دوران قیام جو ضرورت ہوئی بلا تاخیر شیخ نے بندوبست کیا۔رخصت ہوتے وقت بھی گراں قدرتحائف سے ہم بچوں کا دل جیت لیا۔اس قدر پر تکلف ضیافت کہ یادوں کے دریچے جب بھی وا ہوں گے ہمارے دلوں سے دعائیں نکلیں گی۔

دعوت وتبلیغ کے لیے پوری عمر سرزمین حیدرآباد کے حوالے کر دیا۔علمی سرگرمیوں کی وجہ سے تا عمر جامعہ سلفیہ بنارس سے بھی آپ کا تعلق رہا۔اکثر مرکزی دارالعلوم میں آپ کا ورود مسعود ہوتا۔جامعہ کی علمی محفلوں میں آپ کی شرکت ہوتی۔دوران تعلیم آپ کو جامعہ سلفیہ میں جب بھی دیکھا علمی مجالس کا حصہ پایا۔

۲۰۱۳ءمیں ’سنت نبوی اور امن عالم کانفرنس‘ میں شرکت کے موقع پر شاید دوسرا دیدار ہوا ملاقات کر کے بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں۔نہایت خوش مزاج تھے،درد وتکلیف کے باوجودطلبہ کی دلجوئی کے لیے ثقافتی پروگرام میں شامل ہوجاتے۔نماز ظہر یا عصر کے بعد مسجد جامعہ میں طلبہ کو نصیحت فرماتے۔

استاد محترم فضیلۃ الشیخ عبدالوہاب حجازی حفظہ اللہ خوبیوں کے اعتراف میں بڑے بےباک تھے۔کہتے تھے:’’توحید واستقامت کے حوالے سے رائچوری صاحب کے کلمات طلبہ کے لیے بڑے قیمتی ہیں۔‘‘

غالبا نصاب تعلیم کمیٹی کا بھی آپ حصہ تھے،نصاب تعلیم میں تجدید کے تعلق سے منعقد ایک نشست میں بطور رضاکار میں موجود تھا۔مجھے یاد ہے کہ نصاب کے تعلق سے آپ کی گفتگو اور تجاویز پر ارباب مجلس کی خاص توجہ ہوتی۔عقیدہ کے سلسلے میں گفتگو کا آغاز ہوا شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی ’کتاب التوحید‘کا ذکر ہو رہا تھا مرحوم نے اس ضمن میں جو کچھ کام کیا تھا اس کا مسودہ ناظم جامعہ کی خدمت میں پیش کردیا۔

اللہ مغفرت کرے اور آپ کی علمی خدمات کو نجات کا ذریعہ بنا دے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ع
عبدالرحيم بنارسي
28 جنوری، 2021
جامعہ اسلامیہ مدینہ میں طالب علمی کے زمانے کا ایک دلچسپ واقعہ یوں ہے: مصر کے ایک جید استاد فواد قندیل صاحب تھے ان کے زیر تدریس حاضر العالم الاسلامی کا مادہ تھا، ایک روز جب ان کی طبیعت ناساز تھی طلبہ کو کہا کہ آپ میں سے ہی کوئی محاضرہ دے، اللہ کے فضل و کرم سے مرحوم کو عربی زبان و بیان پر اس قدر عبور حاصل تھا کہ فی البدیہہ گھنٹے بھر تک لیکچر دے ڈالا، بڑی پذیرائی ملی۔(بروایت والد محترم)
ع
عبدالرحيم بنارسي
27 جنوری، 2021
رائچوری صاحب اور ان کے کچھ ساتھیوں کا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ منظور ہو گیا تھا، کسی بنا پر ویزا میں تاخیر ہو رہی تھی، آپ رحمہ اللہ نے سعودی شاہ کی خدمت میں ٹیلیگرام ارسال کر دیا، پیغام موصول ہوتے ہی حکام میں ہلچل مچ گئی، تنہا رائچوری صاحب کی حکمت عملی رنگ لائی فوری کارروائی کے نتیجے میں دیگر تمام احباب کو بھی ویزا موصول ہوا۔(بروایت والد محترم)
ع
عبدالرحيم بنارسي
27 جنوری، 2021
جامعہ سلفیہ بنارس میں داخلے سے قبل صفی رائچوری صاحب کا نام شفیع تھا شیخ الجامعہ عبدالوحید رحمانی رحمہ اللہ نے اس کو معمولی تبدیلی کے ساتھ صفی کر دیا۔(بروایت والد محترم)

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

صفی رائچوری رحمہ اللہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر