جنوبی ہندوستان میں اسی(۸۰) کے دہے بعد جماعت اہل حدیث اور منہج سلف کے فروغ واستحکام میں جو ہستیاں سرفہرست رہیں ان میں ایک نام شیخ صفی احمد مدنی رائچوری کا بھی ہےجواب رحمہ اللہ ہوچکے ہیں۔اس خطے کی آپ انتہائی ملنسار اور فعال شخصیت تھے اورہمیشہ تعلیم و دعوت کے فروغ اورصحیح عقیدے کی نشرواشاعت کے لیے فکرمند رہاکرتے تھے۔
میری ملاقات دعاۃ کے بعض علمی ملتقی اور آل انڈیا کانفرنسوں کے اسٹیج پر رہی،
ذیل کے سطور میں آپ کی زندگی کے نقوش اوراس کے درخشاں پہلؤوں کو درج کیاجارہاہے تاکہ نسل نو کے لیے عبرت اورہمت کاسامان رہے۔
نام ونسب:
صفی احمد بن محمد احمد بن معین الدین
پیدائش:
اکتوبر۱۹۴۵ء
آبائی وطن اورخاندانی پس منظر:
آپ کا آبائی وطن رائچور،
والد بہت زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے،
تعلیمی مراحل:
ابتدائی تعلیم آبائی وطن کے نیا مدرسہ رائچورمیں حاصل کی پھر عربی جماعت خامسہ تک جامعہ دارالسلام عمرآبادمیں تعلیم پائی۔بقیہ عالمیت وفضیلت جامعہ سلفیہ بنارس میں مکمل کیا اور۱۹۷۸ء میں جامعہ سلفیہ بنارس سے ہی فضیلت کی ڈگری لے کر فارغ التحصیل ہوئے۔خاص طور پر صحیحین شیخ الحدیث مولانا شمس الحق سلفی سے پڑھی۔
رفقاءدرس:
آپ کے ساتھیوں میں بروقت جماعت کے چوٹی کے علماء شیخ عبدالمعید مدنی،
فراغت کے بعد جامعہ دارالسلام عمر آباد میں تدریس سے وابستہ ہوگئے،
مشاہیر اساتذہ:
عمرآباد میں مولانا عبدالسبحان اعظمی،
تدریسی ودعوتی خدمات:
فراغت کے بعد جامعہ دارالسلام عمر آباد میں تدریس سے منسلک رہے۔اسی دوران ۱۹۸۰ ء میں مدینہ یونیورسٹی میں داخلے کی منظوری ملی اور مدینہ روانہ ہوگئے۔
وہاں سے فراغت کے بعد۱۹۸۵ء میں حیدرآباد سکونت اختیار کرلی اور کئی اداروں میں تدریس سے وابستہ رہے۔جن میں جامعہ رحمانیہ اے سی گارڈ،
مسجد محبوبیہ چنچل گوڑہ حیدرآباد کے آپ مستقل خطیب تھے۔جامعۃ المفلحات میں ہفتے میں دودن درس،
شہری جمعیت اہل حدیث حیدرآباد میں شعبہ افتاء سے منسلک تھے اورآخری وقت تک اس سے جڑے رہے۔
حیدرآباد شہرکے شاہین نگر علاقے میں جامعہ سلفیہ کے نام سے آپ نے ایک ادارہ بھی قائم کیاتھا جہاں عالمیت تک تعلیم ہوتی تھی،
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں بھی آپ برابر مدعو کیے جاتے تھے۔
تصنیفات وتالیفات:
کلام حکمت (منتخب احادیث کی تشریح)
تحفہ رمضان (مختصر دروس)
العقیدہ للسحیمی( ترجمہ)
العقیدہ الواسطیہ( ترجمہ)
مسلمان کاعقیدہ (ترجمہ واضافہ)
جمہوریت کی حقیقت
دعاؤں کا محفوظ قلعہ( دعاؤں کامجموعہ)
انبیاءکرام ونیک لوگوں کی دعائیں (ترتیب وترجمہ)
بدعات ومنکرات کابیان شیخ ابن باز (ترجمہ)
کتاب التوحید (ترجمہ)
اس کے علاوہ متعدد مضامین جو مختلف مجلات میں شائع ہوئے۔
حیدرآباد سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’مجلہ گلستان حدیث‘کے مدیر بھی تھے۔
اہم عہدے اورمناصب:
امیر شہری جمعیت حیدرآباد وسکندرآباد
ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش
رکن عاملہ وشوری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش(۲۰۰۸ تا۲۰۱۳)
نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش
رکن مسلم متحدہ محاذ،
نائب صدر دینی مدارس بورڈ آندھرا
صدرعلماء بورڈ،
ازدواجی زندگی:
۱۹۸۰ءمیں آپ کی شادی ہوئی،
بیماری ووفات:
جوانی سے ہی آپ بیمار رہاکرتے تھے۔مگر علاج معالجے اورہمت سے کام لیتے ہوئے اللہ پر توکل ویقین کے ساتھ راہ دعوت میں لگے رہے اورپورے حوصلے کے ساتھ رب العالمین کی توفیق سے عمر عزیز کی قیمتی بہاریں مکمل کرلیں۔رفتہ رفتہ شوگر کے دائمی اور شدید مریض بھی ہوگئے۔ابھی جلد ہی بیمار پڑے تھے،
حق تعالی مغفرت فرمائے اورلحد پر شبنم افشانی کرے۔آمین تقبل یارب العالمین





