نہ جاؤ شہر کی گلیوں میں بانکپن لے کر
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
قضا گئی ہے مرے جسم سے تھکن لے کر
کوئی تو آ کے اوڑھا دے مجھے کفن لے کر
سنا ہے لوگ قبائیں اتار لیتے ہیں
نہ جاؤ شہر کی گلیوں میں بانکپن لے کر
تمام رنگ یہ سورج نچوڑ لیتا ہے
چلو نہ دھوپ میں یوں چاند سا بدن لے کر
وہ بے وفا جو نہیں تھا تو بے وفا تھا کون؟
میں مر رہا ہوں ہر اک دن یہی گھٹن لے کر
مرے بغیر بہت خامشی رہے گی یہاں
میں جا رہا ہوں تری بزم سے سخن لے کر
ہمارے واسطے یہ زندگی بہت کم تھی
مرے بھی ہم تو کئی خواہشوں کے بن لے کر
ہر ایک شخص پہ رنگیں قبائے مغرب ہے
کہاں تلک میں پھروں مشرقی چلن لے کر
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
س
سعد
26 جنوری، 2021ماشاء اللہ، بہترین اور تازہ اشعار.
م
مامون رشید ہارون رشید سلفی
26 جنوری، 2021ما شاء اللہ بہت خوب...
ہر ایک مصرعہ قابل داد و تحسین ہے...
آپ کے اشعار ہمیشہ دلوں کو چھو لیتے ہیں اللہ مزید توفیق عطا فرمائے آمین.
تمام رنگ یہ سورج نچوڑ لیتا ہے
چلو نہ دھوپ میں یوں چاند سا بدن لے کر





