وعدہ ان کا رہ گیا وعدہ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بہت سے امتحاں دیکھے مگر ایسا نہیں دیکھا
کہ دیکھوں جب ترا چہرہ تو دیکھیں سب مرا چہرہ
عطا کر مجھ کو بینائی جو بخشی ہیں مجھے آنکھیں
یہ کیا نظروں کو میری راکھ کر دے اک ترا جلوہ
کبھی تو شہ کو کچلے گا کبھی تو تاج روندے گا
کبھی تو خود کو پہچانے گا یہ شطرنج کا مہرہ
اگر آ جاتے وہ تو کس طرح میں دل کو سمجھاتا
یہ خوش ہے حسب عادت وعدہ ان کا رہ گیا وعدہ
نبھایا ہے مرے دربان نے کچھ اس طرح ذمہ
وہ خود مدمست ہے چاروں طرف ہے چوروں کا پہرہ
لٹا دیتا ہے سب کچھ قہقہے اس پر لگاتا ہے
بلا مطلب نہیں درویشوں میں ہے شمسؔ کا شہرہ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





