اس موڑ پہ آکر میں کئی بار لٹا ہوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جس شاخ پہ بیٹھا تھا اسے کاٹ چکا ہوں
میں کب سے اسی موت کی وادی میں ڈٹا ہوں
اک آگ کا طوفان میرے چاروں طرف ہے
اشکوں کا سمندر لیے چپ چاپ کھڑا ہوں
جب گرد چھٹی آنکھ سے ویرانیٔ شب کی
تب ساتھ میرے کون ہے یہ جان سکا ہوں
وہ دل کے دھڑکنے کا سبب جان چکے ہیں
اس موڑ پہ آکر میں کئی بار لٹا ہوں
وحشت سی ہوئی دل بھی عجب طور بھر آیا
میں جب بھی تیرے شہر میں کچھ دیر رکا ہوں
یہ دوڑ کے ٹانگوں سے لپٹتے ہوئے بچے
احساس دلاتے ہیں کہ میں ان کا بڑا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





