الحمد لله وحدہٗ والصلوۃ والسلام على من لا نبی بعدہٗ امابعد!
ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ(یوسف:٣٩) کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟
زندگی،
ہر انسان ایک کامیاب زندگی کا خواہاں ہوتا ہے اور کامیابی وہ انمول خزینہ ہے جو جدوجہد سے ہاتھ آتا ہے۔اپنی زندگی کو بھی کامیاب بنانے کے لیے کئی طرح کی جدوجہد اور اصول وضوابط مطلوب ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ایک انسان اپنی زندگی کو کامیابی وکامرانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔اس پوری جدوجہد میں مقدم چیز عقیدہ ہے۔
یوں تو عقیدہ توحید بندے کو دنیاوی،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ (سورۃ الانعام:٨٢) جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔
مذکورہ آیت میں ایمان کے بعد شرک کی آلودگیوں سے پاک رہنے والوں کے لیے دو قسم کی بشارتیں سنائی گئی ہیں: (١)امن و سلامتی (٢) ہدایت
اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہی دو چیزیں حقیقت میں کامیاب زندگی بسر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس کے برعکس باقی چیزیں (مال و دولت،
امن و سلامتی: کامیاب زندگی کے متلاشی کو سب سے پہلے امن و سکون کی تلاش ہوتی ہے ایسا امن و سکون جو اسے ہر دنیاوی خوف سے مامون کردے،
اس قسم کی طمانیت صرف حاملین توحید کو نصیب ہوتی ہے۔سورۃ الزمر میں ﷲ کا ارشاد ہے:
ضَرَبَ اللّـٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَآءُ مُتَشَاكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلََا (سورۃ الزمر:٢٨) اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے ایک غلام ہے جس میں کئی ضدی شریک ہیں اور ایک غلام سالم ایک ہی شخص کا ہے،
ہدایت: نور ایمان کے بعد نور توحید کی مدد سے ہی راہ راست کا انتخاب کیا جاسکتا ہے،
تاریخ ماقبل اسلام کا گر جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت انسانیت نعمت سکون سے محروم اضطراب کی مصیبت میں مبتلا تھی۔ان کے عقائد باطلہ بالخصوص اشراک بالله،
وہ اپنے مخاطبین سے جو پہلا خطاب کرتا وہ یہ کہ "قولوا لا إله إلا الله تفلحوا" (کہو ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں تم کامیاب ہو جاؤگے)
کلمۂ حق کی یہ صدا مکہ کے کوچے کوچے میں بلند ہوئی،
وقت کروٹیں بدلتا گیا لوگوں کا رخ اس کلمہ کی طرف ہوتا گیا وہ اس کلمہ کے اقراری،
کئی کئی معبودان باطلہ سے پرستش سے ﷲ واحد کی عبادت کی طرف آئے تو ان موحدین کی زندگیوں میں توحید نے اس قدر انقلاب برپا کر دیا کہ اس کلمہ کے پرچم تلے جمع ہو کر صدیوں کی دشمنیاں محبتوں میں بدل گئیں اور ایثار و قربانی اور عفو و درگرز جیسے اعلیٰ جذبات پروان چڑھے۔
اور توحید کے بدولت وہ للہیت کے جذبہ سے سرشار ہوئے تو وطن عزیز سے ہجرت،
واقعی عقیدہ توحید سے منسلک ہونے کے بعد انسان کو ایک پُر اطمینان اور پُر بہار زندگی میسر آتی ہے،
اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت
اپنے دور میں بھی ہم مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کتنے بے دین لوگ اضطراب،
اور جہاں کہیں معاملہ توحید کے خلاف ہو تو اس شرک کی آلودگی میں بے قراری بھی ساتھ نظر آتی ہے،
مختصر یہ کہ توحید راہ نجات ہے۔دنیا،
قولوا لا إله إلا الله تفلحوا۔۔۔۔۔۔!!!
ﷲ تا حیات توحید پر کاربند رکھے۔اس کلمۂ حق کے پرچم تلے ہم پر اطمینان و سکون والا سایہ نازل فرمائے۔آمین ثم آمین





