آئنے دان کر رہا ہوں میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مشکل آسان کر رہا ہوں میں
خود کو نادان کر رہا ہوں میں
لینے والا کوئی نہیں ملتا
آئنے دان کر رہا ہوں میں
آئنہ دیکھ کر جو نکلا ہوں
سب کو حیران کر رہا ہوں میں
ایسے عالم میں سانس لیتا ہوں
جیسے احسان کر رہا ہوں میں
کچھ تو زلفوں کی ہے پریشانی
کچھ پریشان کر رہا ہوں میں
یہ جو خوشیاں اکٹھی کرتا ہوں
غم کا سامان کر رہا ہوں میں
دلِ ناداں کو بات سمجھا کر
اور نادان کر رہا ہوں میں
عشق ہے کھیل کی طرح پھر بھی
دل کو میدان کر رہا ہوں میں
ہائے امید! پھر حقیقت کو
ایک امکان کر رہا ہوں میں
کیسے مجھ کو سکوں کی نیند آئے
قبر کا دھیان کر رہا ہوں میں
اپنا چہرہ بدل بدل کر شاد!
اپنی پہچان کر رہا ہوں میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





