جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شکر کرتا ہوں ادا میں گردش ایام کا

کلام: سحر محمود26 فروری، 20211,261قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آدمی رہتا نہیں ہے وہ کسی بھی کام کا
ہر گھڑی ہوتا ہے جو مارا ہوا اوہام کا
آج کا انساں ہے بھوکا کتنا اپنے نام کا
چاہتا ہے تذکرہ ہو بس اسی کے کام کا
زندگی کی اور کچھ صورت نظر آتی نہیں
’’یا تو اس جنگل میں نکلے چاند تیرے نام کا‘‘
یہ ضروری تو نہیں حاصل سکوں بھی ہو اسے
جس کو ہر ساماں میسر ہے یہاں آرام کا
رکھ دیا ہے کھول کر سب اس نے رشتوں کا بھرم
شکر کرتا ہوں ادا میں گردش ایام کا
تنہا رہ جانا زمانے میں برائی تو نہیں
دوست کہلانے سے بہتر ہے کسی بد نام کا
مستحق ہو کر بھی کچھ تو لوگ میرے عہد میں
دیکھ پاتے ہی نہیں چہرہ کبھی انعام کا
جس قدر ماں باپ رکھتے تھے خیال اتنا سحر
خود ہم اپنا رکھ نہیں پاتے خیال آرام کا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

س
سعد
1 مارچ، 2021
بہت عمدہ سحرصاحب، اللہ آپ کو خوش رکھے۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شکر کرتا ہوں ادا میں گردش ایام کا - دی فری لانسر | دی فری لانسر